صدر مملکت آصف علی زرداری آج 25 اپریل سے چین کے سات روزہ سرکاری دورے پر روانہ ہو رہے ہیں۔ دفترِ خارجہ کے مطابق یہ دورہ یکم مئی تک جاری رہے گا، جس کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، تجارتی تعاون اور چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبوں کو مزید وسعت دینا ہے۔ یہ دورہ ایک ایسے موقع پر ہو رہا ہے جب پاکستان اور چین اپنے سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ منا رہے ہیں، جس کی وجہ سے اسے غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔
دورے کا شیڈول اور اہم شہر
دفترِ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق صدر زرداری اپنے دورے کے پہلے مرحلے میں 25 سے 27 اپریل تک چین کے صوبے ہنان کے شہر ‘چانگشا’ میں قیام کریں گے۔ دورے کے دوسرے مرحلے میں وہ 28 اپریل سے یکم مئی تک صوبہ ہائنان کے شہر ‘سانیا’ جائیں گے۔ ان شہروں میں قیام کے دوران صدر مملکت چینی صوبائی قیادت اور اعلیٰ حکام سے ملاقاتیں کریں گے جن میں دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
اقتصادی تعاون اور تزویراتی شراکت داری
بیان میں کہا گیا ہے کہ صدر زرداری کی ملاقاتوں کا مرکز اقتصادی و تجارتی تعاون کو فروغ دینا اور سی پیک منصوبوں کی رفتار تیز کرنا ہوگا۔ یہ دورہ پاکستان اور چین کے درمیان اعلیٰ سطحی روابط کی دیرینہ روایت کا تسلسل ہے اور دونوں ممالک کی جانب سے اسٹریٹجک کوآپریٹو شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کے “گہرے عزم” کا عکاس ہے۔
ماضی کے دوروں کے ثمرات
واضح رہے کہ گزشتہ سال بھی صدر آصف علی زرداری نے چین کا 10 روزہ کامیاب دورہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں زراعت، دفاع، توانائی، ریلوے اور کسانوں کی تربیت جیسے اہم شعبوں میں چھ مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے تھے۔ موجودہ دورے میں ان معاہدوں پر پیش رفت اور نئے شعبوں میں شراکت داری کے امکانات پر بھی بات چیت ہوگی، جس سے پاکستان کے تمام صوبوں کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔