حکومتِ پاکستان نے عمران خان کے بیٹوں قاسم خان اور سلیمان خان کی جانب سے اپنے والد سے ملاقات سے متعلق بیانات پر مؤقف واضح کیا ہے۔ حکومتی مؤقف کے مطابق دونوں پاکستانی شہری ہیں اور ان کے پاس نیشنل آئی ڈی کارڈ فار اوورسیز پاکستانیز موجود ہے۔
حکومت کے مطابق قاسم اور سلیمان خان نائیکوپ کی بنیاد پر پاکستان آ سکتے ہیں۔ وہ اپنے والد سے ملاقات کے لیے متعلقہ حکام سے اجازت بھی طلب کر سکتے ہیں۔
حکومتی مؤقف کے مطابق عمران خان کے بیٹوں کے لیے پاکستان آنے میں ویزا بنیادی رکاوٹ نہیں۔ ان کے پاس پاکستانی شہریت اور موجود ہے، اس لیے وہ پاکستان کا سفر کر سکتے ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ اگر ان کی ترجیح اپنے والد سے ملاقات ہے تو اس کے لیے قانونی اور انتظامی راستہ موجود ہے۔
میڈیا مہم پر بھی سوالات
دوسری جانب قاسم اور سلیمان خان کی جانب سے میڈیا انٹرویوز اور غیر ملکی حکومتوں سے اپیلوں کا سلسلہ بھی سامنے آیا ہے۔ حکومتی مؤقف کے مطابق اس طرز عمل سے عمران خان کی قید اور قانونی کارروائی کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
حکومتی بیانیے میں سوال اٹھایا گیا ہے کہ اگر مقصد صرف والد سے ملاقات ہے تو پاکستان آکر متعلقہ حکام سے اجازت لینے کا راستہ اختیار کیوں نہیں کیا جاتا۔
حکومتی مؤقف کے مطابق ایک خاندانی ملاقات کے معاملے کو غیر ملکی حکومتوں اور عالمی میڈیا تک لے جانے سے معاملہ سیاسی نوعیت اختیار کرتا دکھائی دیتا ہے۔
تاہم، قاسم اور سلیمان خان کی جانب سے اپنے والد سے ملاقات کے حوالے سے سامنے آنے والے مؤقف کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے کہ وہ عمران خان کی قید اور ان کے قانونی معاملات پر عالمی توجہ چاہتے ہیں۔
دیکھیے: عمران خان کے حق میں زیک گولڈ اسمتھ کا خط، یہودی لابی ایک بار پھر متحرک