بھارت، جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت ہونے کا ڈھنڈورا پیٹتا نہیں تھکتا، آج اسی کی سرزمیں پر جمہوریت کی تدفین کا منظر عام ہے۔ الیکشن کمیشن کی مبینہ چھتری تلے 13 کروڑ سے زائد شہریوں کو راتوں رات ووٹ کے بنیادی اور آئینی حق سے محروم کر دینا محض کوئی انتظامی یا فنی غلطی نہیں، بلکہ یہ اپوزیشن کے سیاسی وجود کو ختم کرنے اور مودی حکومت کے اقتدار کو طویل تر بنانے کی ایک زہریلی اور سنترپت سازش کا کھلا ثبوت معلوم ہوتا ہے۔
نریندر مودی نے اپنے دورِ اقتدار میں جن ریاست اور آئینی اداروں کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا، ان میں الیکشن کمیشن سب سے آگے دکھائی دیتا ہے۔ اپوزیشن رہنما راہول گاندھی کا نئی دہلی کے رام لیلا میدان کی جانب ہزاروں مظاہرین کے ساتھ مارچ اور چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا فوری مطالبہ اس بات کا اعلان ہے کہ اب عوام خاموش تماشائی نہیں رہے۔ جب ایک آئینی ادارہ خود کو حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا سیاسی ونگ بنا لے، تو وہاں شفاف انتخابات کی توقع رکھنا محض اک خام خیالی کے سوا کچھ نہیں رہ جاتا۔
تیرہ کروڑ ووٹرز کا یوں اچانک غائب کر دیا جانا کوئی معمولی بات نہیں۔۔ یہ مجموعی بھارتی آبادی کا ایک بہت بڑا حصہ ہے۔ مودی حکومت نے انتخابی اصلاحات کی آڑ میں ان طبقات اور مسلم و اقلیتی ووٹروں پر چھری چلائی ہے جو بی جے پی کی فاشسٹ اور ہندوتوا پالیسیوں کے خلاف ووٹ ڈالتے رہے ہیں۔ اپوزیشن کا یہ الزام بالکل بجا دکھائی دیتا ہے کہ انتخابی فہرستوں میں یہ ردوبدل محض ایک ہدف کو حاصل کرنے کے لیے کیا گیا ہے: اقتدار کی مسند پر مودی کا بغیر کسی مقابلے کے قبضہ برقرار رہے۔
کاکروچ سے لے کر عوام تک
نئی دہلی کی سڑکوں پر گونجتے ہوئے نعرے، کاکروچ جنتا پارٹی جیسے جوانوں کے متحرک گروہوں کی شمولیت اور راہول گاندھی کی قیادت میں اپوزیشن کا اتحاد اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ بھارتی عوام اب اس سوچی سمجھی ووٹ چوری کو برداشت کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ رام لیلا میدان میں اٹھنے والا یہ طوفان اس بات کا انتباہ ہے کہ جب عوام سے ان کی رائے اور آواز چھین لی جائے، تو پھر وہ سڑکوں پر فیصلوں کا حق مانگنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
آمریت انجام
مودی اور ان کے اتحادی اپنے تمام اقتدار اور الیکشن کمیشن کی کٹھ پتلی دباؤ کے باوجود یہ بھول رہے ہیں کہ عوامی بیداری کے آگے کوئی آمریت پائیدار نہیں رہ سکتی۔ 13 کروڑ ووٹرز کا یہ استحصال اب صرف الیکشن کمیشن کے چیف کے استعفے کے مطالبے تک محدود نہیں رہا، بلکہ یہ مودی کے فاشسٹ طرزِ حکمرانی کے خلاف ایک باقاعدہ عوامی اور جمہوریت بچاؤ تحریک کا روپ دھار چکا ہے۔ اگر جمہوری اداروں کو فی الفور آزاد نہ کیا گیا تو یہ ابال مودی حکومت کے تمام سیاسی محلوں کو زمین بوس کر دے گا۔





