حالیہ تزویراتی تجزیوں اور معروف تھنک ٹینک ’اسٹریٹیجیا‘ پر ہونے والی تازہ ترین بحث کے مطابق بھارت اس وقت شدید اندرونی بحران اور سماجی تنزلی کی زد میں ہے، جسے دفاعی ماہرین نے خطے کے لیے ایک “خطرناک گڑھے” سے تشبیہ دی ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت میں بڑھتی ہوئی مذہبی انتہاء پسندی اور اقلیتوں کے خلاف منظم تشدد نے جنوبی ایشیا کے مجموعی امن و استحکام کو داؤ پر لگا دیا ہے۔
انسانی حقوق کی پامالی
تزویراتی ماہرین کا ماننا ہے کہ بھارت کے اندرونی حالات تیزی سے ابتری کی جانب گامزن ہیں۔ انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں اور ریاستی سرپرستی میں ہونے والی انتہاء پسندی نے بھارت کے نام نہاد جمہوری چہرے کو عالمی سطح پر بری طرح مسخ کر دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ سماجی تنزلی نہ صرف بھارت کے اپنے استحکام کے لیے خطرہ ہے بلکہ اس کے تزویراتی عزائم اور پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات پر بھی انتہائی منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔
عالمی برادری کے لیے لمحہ فکریہ
عالمی تزویراتی فورمز پر اب یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ بھارت کے غیر ذمہ دارانہ رویے اور داخلی خلفشار کا فوری نوٹس لیا جائے۔ تجزیہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ اگر بھارت کی ان پالیسیوں کو نہ روکا گیا تو جنوبی ایشیا کسی بڑے انسانی المیے یا سکیورٹی بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انتہاء پسندانہ سوچ کی حامل موجودہ پالیسیاں بھارت کو عالمی سطح پر تنہائی کی جانب دھکیل رہی ہیں۔
مستقبل کے خطرات
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت کی موجودہ صورتحال اس کے اپنے مفادات کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔ عالمی سطح پر اس کے جمہوری دعووں کی قلعی کھل رہی ہے اور تزویراتی حلقوں میں اسے ایک “غیر ذمہ دار ریاست” کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین نے زور دیا ہے کہ علاقائی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری ہے کہ عالمی ادارے بھارت پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ اپنی جارحانہ اور انتہا پسندانہ پالیسیوں پر نظرثانی کرے۔