ایک مقولہ ہے کہ جھکنا زندگی کی علامت ہے اور اکڑنا مردے کی کیفیت
تاریخ گواہ ہے کہ جس حکمران نے بھی ظلم اور بربریت کا کھیل کھیلا ،، اس کا انجام خراب ہی ہوا ۔ ہماری نگاہیں آج کل ایک سیاستدان کا وہی انجام ہوتا دیکھ رہی ہیں ۔
اس سیاست دان کا نام ہے نریندر مودی ۔۔
مودی کے خلاف بھارت میں مختلف نوعیت کی احتجاجی سرگرمیوں میں حالیہ مہینوں کے دوران نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اگرچہ یہ احتجاج ایک متحدہ قومی تحریک کی شکل اختیار نہیں کر سکے، تاہم طلبہ، اپوزیشن جماعتیں، سول سوسائٹی، علاقائی سیاسی قوتیں اور بعض سماجی تنظیمیں مختلف مسائل پر حکومت کے خلاف آواز بلند کر رہی ہیں۔
سیاسی مبصرین کے مطابق موجودہ احتجاجی لہر کی بنیادی وجوہات میں امتحانی بے ضابطگیاں، مہنگائی، بے روزگاری، وفاقی پالیسیوں پر اختلافات، اور بعض آئینی و انتظامی معاملات شامل ہیں۔ یہی عوامل مودی حکومت کے لیے سیاسی دباؤ میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔
طلبہ احتجاج: امتحانی نظام پر سوالات
دو ہزار چھبیس کے دوران مختلف سرکاری امتحانات اور بھرتیوں میں مبینہ بے ضابطگیوں اور پیپر لیکس کے خلاف طلبہ کی جانب سے متعدد شہروں میں احتجاج ریکارڈ کیا گیا۔ نئی دہلی سمیت کئی مقامات پر نوجوانوں نے شفاف امتحانی نظام، ذمہ داران کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کا مطالبہ کیا۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق تعلیمی اصلاحات اور امتحانی شفافیت کے مطالبات نے نوجوانوں میں بے چینی کو نمایاں طور پر اجاگر کیا ہے۔ سماجی کارکن سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال بھی اسی تناظر میں توجہ کا مرکز بنی رہی۔
اپوزیشن کا پارلیمانی دباؤ
کانگریس، ڈی ایم کے، سماج وادی پارٹی اور دیگر اپوزیشن جماعتوں نے حکومت کو مہنگائی، بے روزگاری، امتحانی بے ضابطگیوں اور انتخابی حلقہ بندی جیسے معاملات پر پارلیمنٹ میں گھیرنے کا اعلان کیا ہے۔
ٹائمز آف انڈیا کے مطابق کانگریس قیادت نے ان مسائل پر مشترکہ اپوزیشن حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا ہے اور حکومت سے جواب طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ریاستی سطح پر بھی مزاحمت
جموں و کشمیر میں ریاستی حیثیت کی بحالی کا مطالبہ دوبارہ سیاسی بحث کا حصہ بن چکا ہے۔ مختلف علاقائی جماعتیں نئی دہلی میں احتجاجی پروگراموں کا اعلان کر چکی ہیں، جبکہ جنوبی بھارت میں بھی وفاقی پالیسیوں کے خلاف وقتاً فوقتاً احتجاجی مہمات سامنے آتی رہی ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ احتجاج اس بات کی علامت ہیں کہ مرکز اور ریاستوں کے درمیان اختیارات اور نمائندگی کے سوالات بدستور حساس نوعیت رکھتے ہیں۔
معاشی دباؤ اور عوامی بے چینی
بھارت کی معیشت مجموعی طور پر ترقی کی رفتار برقرار رکھے ہوئے ہے، تاہم نوجوانوں میں روزگار کے مواقع، مہنگائی اور معاشی عدم مساوات کے حوالے سے تشویش موجود ہے۔ ورلڈ بینک کے مطابق بھارت دنیا کی تیزی سے ترقی کرنے والی بڑی معیشتوں میں شامل ہے، لیکن روزگار کے معیار اور سماجی مساوات جیسے شعبے اب بھی اہم چیلنج تصور کیے جاتے ہیں۔
کیا یہ واقعی مودی مخالف تحریک ہے؟
یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ پورا بھارت ایک متحدہ مودی مخالف تحریک کے تحت سڑکوں پر نکل آیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مختلف احتجاج مختلف مسائل اور علاقوں سے متعلق ہیں۔ تاہم یہ ضرور واضح ہے کہ نوجوانوں، اپوزیشن جماعتوں اور بعض سماجی حلقوں میں حکومت کی پالیسیوں کے حوالے سے بے چینی میں اضافہ ہوا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر اپوزیشن ان مختلف احتجاجی آوازوں کو ایک مشترکہ سیاسی بیانیے میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو آئندہ مہینوں میں حکومت پر دباؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔ دوسری جانب بھارتیہ جنتا پارٹی اب بھی قومی سطح پر ایک مضبوط سیاسی قوت سمجھی جاتی ہے اور اس کی تنظیمی طاقت بدستور برقرار ہے۔
بھارت میں حالیہ احتجاجی سرگرمیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ امتحانی نظام، روزگار، مہنگائی، وفاقی پالیسیوں اور آئینی معاملات پر عوامی بحث شدت اختیار کر رہی ہے۔ اگرچہ ان احتجاجوں کو ایک واحد قومی تحریک قرار دینا قبل از وقت ہوگا، لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ مودی حکومت کو مختلف محاذوں پر بڑھتے ہوئے عوامی اور سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔ آنے والے پارلیمانی اجلاس اور ریاستی سیاسی سرگرمیاں اس دباؤ کی سمت اور شدت کا تعین کریں گی۔