مستقل ثالثی عدالت میں بھارت کے بائیکاٹ کے باوجود نیوٹرل ایکسپرٹ کی کارروائی جاری ہے۔ پاکستان کے اصولی مؤقف کو کامیابی ملی اور حتمی فیصلہ 2027 میں متوقع ہے۔

July 31, 2026

وزارتِ اطلاعات نے سوشل میڈیا پر وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ سے منسوب اے آئی کی مدد سے تیار کردہ ویڈیو کو من گھڑت پراپیگنڈا قرار دے دیا ہے۔

July 31, 2026

سابق افغان وزیر داخلہ مسعود اندرابی نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت طالبان اور ٹی ٹی پی کے ساتھ خفیہ گٹھ جوڑ قائم کر کے افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔

July 31, 2026

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق بھارتی دفاعی اداروں اور نجی کمپنیوں نے اکتوبر 2023 سے نومبر 2025 تک اسرائیل کو بڑی مقدار میں فوجی سامان برآمد کیا، جو غزہ جنگ میں استعمال ہو رہا ہے۔

July 31, 2026

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ریاست کے سارے بچے ہیں لیکن لاڈلہ آزاد کشمیر ہے، وسائل کی تقسیم میں سب سے زیادہ حصہ آزاد کشمیر کو ملتا ہے۔

July 31, 2026

ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ وزیرِ داخلہ محسن نقوی کے بیان پر پاک فوج کوئی تبصرہ نہیں کرے گی کیونکہ یہ ان کی ذاتی رائے ہے۔

July 31, 2026

کابل دہلی گٹھ جوڑ: سابق افغان وزیر داخلہ کا تہلکہ خیز انکشاف

سابق افغان وزیر داخلہ مسعود اندرابی نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت طالبان اور ٹی ٹی پی کے ساتھ خفیہ گٹھ جوڑ قائم کر کے افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔
کابل، دہلی گٹھ جوڑ: سابق افغان وزیر داخلہ کے انکشاف نے تہلکہ مچا دیا

سابق افغان وزیر داخلہ مسعود اندرابی کے مطابق بھارت طالبان اور ٹی ٹی پی کے ذریعے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کر رہا ہے، جس پر پاکستان نے سخت پیغام دیا ہے۔

July 31, 2026

سابق افغان وزیر داخلہ جنرل مسعود اندرابی نے ایک اہم انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ جمہوری حکومت کے خاتمے کے بعد بھارت نے افغانستان میں طالبان حکومت کے ساتھ اپنے تعلقات انتہائی تیزی سے استوار کیے ہیں۔ بھارت اپنے خفیہ ذرائع اور طالبان کے مختلف دھڑوں کو متحرک کر کے خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے، جس کا بنیادی مقصد کالعدم تحریک طالبان پاکستان کو پاکستان کے خلاف بطورِ آلہ کار استعمال کرنا ہے۔

جنرل مسعود اندرابی کے مطابق بھارت نے افغان جمہوری نظام کی حمایت سے فوراً دامن چھڑا کر طالبان رژیم کے ساتھ خفیہ روابط قائم کر لیے ہیں۔ طالبان وزرا کو نئی دہلی کے سرکاری دوروں کی دعوت دی گئی، بھارتی سفارت خانہ کابل میں دوبارہ فعال کیا گیا اور طالبان کو مختلف نوعیت کی امداد بھی فراہم کی گئی۔

یہ تمام اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارت افغانستان کے معاملے کو کسی جمہوری یا اخلاقی اصول کے بجائے محض پاکستان کے ساتھ اپنی روایتی رقابت کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔

انکشافات میں بتایا گیا ہے کہ بھارت طالبان کی حمایت اس حکمتِ عملی کے تحت کر رہا ہے تاکہ ٹی ٹی پی پر اپنا اثر و رسوخ قائم رکھے۔ طالبان حکومت اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں آنے والی کشیدگی کی بڑی وجہ یہی ہے کہ کابل حکومت نہ صرف ٹی ٹی پی کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہی ہے، بلکہ بھارت کو بھی پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کھلے عام استعمال کرنے کی اجازت دے چکی ہے۔

اسی تناظر میں پاکستان نے افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر مؤثر اور ٹارگٹڈ کارروائیاں کی ہیں۔ ان کارروائیوں کے ذریعے پاکستان نے بھارت اور افغان طالبان کو واضح پیغام دیا ہے کہ اگر طالبان رژیم یا ٹی ٹی پی کو پاکستان کی سلامتی کے خلاف استعمال کیا گیا تو اس کا جواب انتہائی سخت اور جارحانہ صورت میں دیا جائے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق تقریباً دو سال قبل پاکستان اور بھارت کے درمیان براہِ راست ملٹری تصادم ہوا تھا، جس کے بعد دونوں ممالک اس بات سے آگاہ ہوئے کہ کھلی جنگ کتنی تباہ کن ہو سکتی ہے۔ اسی لیے بھارت نے اب طالبان اور ٹی ٹی پی جیسے عناصر کے ذریعے غیر براہِ راست دباؤ بڑھانے کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔

یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ بھارت اور طالبان کے درمیان تعلقات کسی رسمی معاہدے یا یادداشتِ سمجھوتہ کے تحت نہیں، بلکہ یہ محض خفیہ معلومات کے تبادلے اور نچلی سطح کا تعاون ہے۔

بھارتی ادارے طالبان کے بااثر وزرا جن میں ملا یعقوب، ملا امیر خان متقی اور کابل میں ملا یعقوب دھڑے کے دیگر اہم حکام شامل ہیں، پر گہرا اثر و رسوخ قائم کر چکے ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان سے ملحقہ سرحدی افغان صوبوں میں بھی بھارتی ایجنسیاں مقامی دھڑوں کو بالواسطہ امداد فراہم کر رہی ہیں۔

متعلقہ مضامین

مستقل ثالثی عدالت میں بھارت کے بائیکاٹ کے باوجود نیوٹرل ایکسپرٹ کی کارروائی جاری ہے۔ پاکستان کے اصولی مؤقف کو کامیابی ملی اور حتمی فیصلہ 2027 میں متوقع ہے۔

July 31, 2026

وزارتِ اطلاعات نے سوشل میڈیا پر وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ سے منسوب اے آئی کی مدد سے تیار کردہ ویڈیو کو من گھڑت پراپیگنڈا قرار دے دیا ہے۔

July 31, 2026

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ کے مطابق بھارتی دفاعی اداروں اور نجی کمپنیوں نے اکتوبر 2023 سے نومبر 2025 تک اسرائیل کو بڑی مقدار میں فوجی سامان برآمد کیا، جو غزہ جنگ میں استعمال ہو رہا ہے۔

July 31, 2026

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ریاست کے سارے بچے ہیں لیکن لاڈلہ آزاد کشمیر ہے، وسائل کی تقسیم میں سب سے زیادہ حصہ آزاد کشمیر کو ملتا ہے۔

July 31, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *