لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

کابل دہلی گٹھ جوڑ: سابق افغان وزیر داخلہ کا تہلکہ خیز انکشاف

سابق افغان وزیر داخلہ مسعود اندرابی نے انکشاف کیا ہے کہ بھارت طالبان اور ٹی ٹی پی کے ساتھ خفیہ گٹھ جوڑ قائم کر کے افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہا ہے۔
کابل، دہلی گٹھ جوڑ: سابق افغان وزیر داخلہ کے انکشاف نے تہلکہ مچا دیا

سابق افغان وزیر داخلہ مسعود اندرابی کے مطابق بھارت طالبان اور ٹی ٹی پی کے ذریعے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کر رہا ہے، جس پر پاکستان نے سخت پیغام دیا ہے۔

July 31, 2026

سابق افغان وزیر داخلہ جنرل مسعود اندرابی نے ایک اہم انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ جمہوری حکومت کے خاتمے کے بعد بھارت نے افغانستان میں طالبان حکومت کے ساتھ اپنے تعلقات انتہائی تیزی سے استوار کیے ہیں۔ بھارت اپنے خفیہ ذرائع اور طالبان کے مختلف دھڑوں کو متحرک کر کے خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہا ہے، جس کا بنیادی مقصد کالعدم تحریک طالبان پاکستان کو پاکستان کے خلاف بطورِ آلہ کار استعمال کرنا ہے۔

جنرل مسعود اندرابی کے مطابق بھارت نے افغان جمہوری نظام کی حمایت سے فوراً دامن چھڑا کر طالبان رژیم کے ساتھ خفیہ روابط قائم کر لیے ہیں۔ طالبان وزرا کو نئی دہلی کے سرکاری دوروں کی دعوت دی گئی، بھارتی سفارت خانہ کابل میں دوبارہ فعال کیا گیا اور طالبان کو مختلف نوعیت کی امداد بھی فراہم کی گئی۔

یہ تمام اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ بھارت افغانستان کے معاملے کو کسی جمہوری یا اخلاقی اصول کے بجائے محض پاکستان کے ساتھ اپنی روایتی رقابت کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔

انکشافات میں بتایا گیا ہے کہ بھارت طالبان کی حمایت اس حکمتِ عملی کے تحت کر رہا ہے تاکہ ٹی ٹی پی پر اپنا اثر و رسوخ قائم رکھے۔ طالبان حکومت اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں آنے والی کشیدگی کی بڑی وجہ یہی ہے کہ کابل حکومت نہ صرف ٹی ٹی پی کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کر رہی ہے، بلکہ بھارت کو بھی پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کھلے عام استعمال کرنے کی اجازت دے چکی ہے۔

اسی تناظر میں پاکستان نے افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر مؤثر اور ٹارگٹڈ کارروائیاں کی ہیں۔ ان کارروائیوں کے ذریعے پاکستان نے بھارت اور افغان طالبان کو واضح پیغام دیا ہے کہ اگر طالبان رژیم یا ٹی ٹی پی کو پاکستان کی سلامتی کے خلاف استعمال کیا گیا تو اس کا جواب انتہائی سخت اور جارحانہ صورت میں دیا جائے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق تقریباً دو سال قبل پاکستان اور بھارت کے درمیان براہِ راست ملٹری تصادم ہوا تھا، جس کے بعد دونوں ممالک اس بات سے آگاہ ہوئے کہ کھلی جنگ کتنی تباہ کن ہو سکتی ہے۔ اسی لیے بھارت نے اب طالبان اور ٹی ٹی پی جیسے عناصر کے ذریعے غیر براہِ راست دباؤ بڑھانے کی پالیسی اختیار کر رکھی ہے۔

یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ بھارت اور طالبان کے درمیان تعلقات کسی رسمی معاہدے یا یادداشتِ سمجھوتہ کے تحت نہیں، بلکہ یہ محض خفیہ معلومات کے تبادلے اور نچلی سطح کا تعاون ہے۔

بھارتی ادارے طالبان کے بااثر وزرا جن میں ملا یعقوب، ملا امیر خان متقی اور کابل میں ملا یعقوب دھڑے کے دیگر اہم حکام شامل ہیں، پر گہرا اثر و رسوخ قائم کر چکے ہیں۔ علاوہ ازیں پاکستان سے ملحقہ سرحدی افغان صوبوں میں بھی بھارتی ایجنسیاں مقامی دھڑوں کو بالواسطہ امداد فراہم کر رہی ہیں۔

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *