"> دنیا بھر میں ہونے والی دہشت گردی میں بھارت کا گھناؤنا کردار - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

دنیا بھر میں ہونے والی دہشت گردی میں بھارت کا گھناؤنا کردار

دہشت گردی کے خلاف جنگ دوہرے معیار کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ اگر کسی ریاست یا اس کے شہری بیرونِ ملک تشدد، تخریب کاری یا عدم استحکام میں ملوث پائے جائیں تو شفاف، غیر جانبدار اور بین الاقوامی تحقیقات ناگزیر ہونی چاہئیں۔ مگر جب شواہد کے باوجود خاموشی اختیار کی جائے، تو یہ خاموشی خود ایک سوال بن جاتی ہے۔
دنیا بھر میں ہونے والی دہشت گردی میں بھارت کا گھناؤنا کردار

یہ پہلا موقع نہیں کہ بھارت پر اس نوعیت کے الزامات عائد ہوئے ہوں۔ پاکستان میں گرفتار ہونے والا بھارتی نیوی کا حاضر سروس افسر کلبھوشن یادیو اس کی ایک نمایاں مثال ہے، جس نے اعتراف کیا کہ وہ پاکستان میں تخریب کاری، دہشت گردی اور عدم استحکام پھیلانے کے لیے سرگرم رہا۔

December 18, 2025

دنیا بھر میں دہشت گردی ایک ایسا چیلنج بن چکی ہے جس سے نمٹنے کے لیے ریاستوں سے شفافیت، ذمہ داری اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کا تقاضا کیا جاتا ہے۔ مگر بدقسمتی سے حالیہ برسوں میں متعدد ایسے واقعات اور انکشافات سامنے آئے ہیں جنہوں نے عالمی سطح پر بھارت کے کردار پر سنجیدہ اور پریشان کن سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اس کے باوجود عالمی برادری کی خاموشی ایک تلخ حقیقت بن چکی ہے، جس کی بڑی وجہ بھارت کی بڑی معیشت، وسیع منڈی اور اسٹریٹجک اہمیت کو قرار دیا جا رہا ہے۔

حالیہ دنوں آسٹریلیا میں پیش آنے والے ایک پرتشدد حملے نے عالمی توجہ حاصل کی، جہاں ابتدائی تحقیقات اور میڈیا رپورٹس کے مطابق حملے میں ملوث شخص کا تعلق ایک ایسے خاندان سے بتایا جا رہا ہے جس کے والد بھارتی شہری ہیں۔ اگرچہ تفتیشی عمل ابھی جاری ہے اور کسی ریاستی سطح پر حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا، تاہم یہ حقیقت کہ حملے میں ملوث فرد کا خاندانی پس منظر بھارت سے جڑا ہوا ہے، اس وسیع تر بحث کو مزید تقویت دیتی ہے کہ بھارتی نژاد نیٹ ورکس مختلف خطوں میں پرتشدد سرگرمیوں میں کس حد تک ملوث رہے ہیں۔ اس کے باوجود، ابتدائی دنوں میں پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرانے کی کوششیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ بیانیہ سازی میں حقائق سے زیادہ مفادات کو ترجیح دی جاتی ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ بھارت پر اس نوعیت کے الزامات عائد ہوئے ہوں۔ پاکستان میں گرفتار ہونے والا بھارتی نیوی کا حاضر سروس افسر کلبھوشن یادیو اس کی ایک نمایاں مثال ہے، جس نے اعتراف کیا کہ وہ پاکستان میں تخریب کاری، دہشت گردی اور عدم استحکام پھیلانے کے لیے سرگرم رہا۔ کلبھوشن یادیو کا معاملہ نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی بھارت کے ریاستی کردار پر ایک سوالیہ نشان بن چکا ہے، مگر حیرت انگیز طور پر اس معاملے پر بھی وہ عالمی ردِعمل دیکھنے میں نہیں آیا جو دیگر ممالک کے خلاف الزامات کی صورت میں فوراً سامنے آ جاتا ہے۔

اسی طرح قطر اور مالدیپ جیسے ممالک میں بھی بھارتی نیٹ ورکس کی مشتبہ سرگرمیوں پر تحفظات کا اظہار کیا جا چکا ہے۔ مالدیپ میں سیاسی عدم استحکام، داخلی معاملات میں مداخلت اور خفیہ نیٹ ورکس کے الزامات ہوں یا قطر میں حساس معاملات میں بھارتی عناصر کے کردار پر اٹھنے والے سوالات، یہ سب اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مسئلہ محض کسی ایک ملک تک محدود نہیں رہا۔ اس کے باوجود عالمی طاقتیں ان معاملات کو یا تو نظرانداز کرتی ہیں یا پھر محتاط خاموشی اختیار کر لیتی ہیں، کیونکہ بھارت ایک بڑی معیشت اور اہم اسٹریٹجک شراکت دار کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

کینیڈا میں سکھ رہنماؤں کے قتل اور وہاں کی قیادت کی جانب سے بھارتی خفیہ ایجنسیوں پر براہِ راست الزامات نے اس بحث کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ تاہم یہاں بھی عالمی ردِعمل محدود رہا، جو اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ بین الاقوامی نظام میں انصاف اور احتساب کا معیار یکساں نہیں بلکہ طاقت اور معاشی حیثیت سے مشروط ہے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ دوہرے معیار کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ اگر کسی ریاست یا اس کے شہری بیرونِ ملک تشدد، تخریب کاری یا عدم استحکام میں ملوث پائے جائیں تو شفاف، غیر جانبدار اور بین الاقوامی تحقیقات ناگزیر ہونی چاہئیں۔ مگر جب شواہد کے باوجود خاموشی اختیار کی جائے، تو یہ خاموشی خود ایک سوال بن جاتی ہے۔

دہشت گردی کسی ایک خطے یا قوم کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے خطرہ ہے۔ اس کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ عالمی برادری معاشی مفادات اور اسٹریٹجک شراکت داریوں سے بالاتر ہو کر حقائق کی بنیاد پر فیصلے کرے۔ بصورتِ دیگر، دہشت گردی کے خلاف عالمی بیانیہ کھوکھلا اور عالمی امن محض ایک نعرہ بن کر رہ جائے گا۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *