مددگار یا مکار؟ اپنوں کے ہاتھوں قتل کے لرزہ خیز واقعات

مددگار یا مکار؟

اپنوں کے لبادے میں چھپے قاتلوں اور خونی رشتوں کے پامال ہوتے تقدس پر ایک دردناک تحریر، جو مددگار چہروں کے پیچھے چھپے مکروہ اور سفاک کرداروں کو بے نقاب کرتی ہے۔

افغان وزیر صحت کا دورہ بھارت؛ طالبان حکومت بھارت سے معاہدوں کیلئے پاکستان کی ادویات کو جعلی قرار دینے لگی

دورے کے دوران افغان وفد کی بھارتی فارماسیوٹیکل کمپنیوں سے ملاقاتیں بھی طے ہیں، جنہیں “افغانستان کی پبلک ہیلتھ سپلائی چین میں شمولیت” کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ اسی تناظر میں بھارتی کمپنی زائیڈس لائف سائنسز اور افغان شراکت داروں کے درمیان 100 ملین ڈالر کے مفاہمتی معاہدے کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں، جس کے تحت ابتدائی طور پر ادویات کی برآمد اور بعد ازاں مقامی پیداوار و ٹیکنالوجی ٹرانسفر شامل ہے۔
افغان وزیر صحت کا دورہ بھارت؛ طالبان حکومت بھارت سے معاہدوں کیلئے پاکستان کی ادویات کو جعلی قرار دینے لگی

ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ ایک سپلائی چین کو دوسری سے بدلتے وقت اگر آزادانہ تصدیق اور تدریجی نفاذ نہ ہو تو اس کی قیمت سیاسی اشاروں کے بجائے عام افغان مریضوں کو چکانا پڑتی ہے۔

December 18, 2025

افغانستان کی طالبان قیادت کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت اور بھارت کے درمیان صحت کے شعبے میں تعاون تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، ایسے وقت میں جب افغانستان نے پاکستانی فارماسیوٹیکل مصنوعات کی درآمد مرحلہ وار بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ پیش رفت افغانستان-پاکستان تعلقات میں کشیدگی، سرحدی جھڑپوں اور متنازع بیانیوں کے پس منظر میں سامنے آئی ہے، جس نے صحت جیسے حساس شعبے کو بھی جیوپولیٹیکل صف بندی کا حصہ بنا دیا ہے۔

افغان وزیرِ صحت نور جلال جلالی 16 تا 21 دسمبر 2025 بھارت کے پہلے سرکاری دورے پر ہیں۔ یہ تین ماہ میں کسی سینئر طالبان عہدیدار کا تیسرا دورۂ بھارت ہے۔ دورے کا مقصد صحت کے شعبے میں تعاون، استعداد سازی اور ادویات کی فراہمی پر بات چیت بتایا گیا ہے۔ بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق بھارت نے علامتی طور پر اینٹی کینسر ادویات اور ویکسین افغانستان کے حوالے کیں اور مستقبل میں “ادویات، ویکسین اور 128-سِلائس سی ٹی اسکینر” فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔

دورے کے دوران افغان وفد کی بھارتی فارماسیوٹیکل کمپنیوں سے ملاقاتیں بھی طے ہیں، جنہیں “افغانستان کی پبلک ہیلتھ سپلائی چین میں شمولیت” کی ترغیب دی جا رہی ہے۔ اسی تناظر میں بھارتی کمپنی زائیڈس لائف سائنسز اور افغان شراکت داروں کے درمیان 100 ملین ڈالر کے مفاہمتی معاہدے کی خبریں بھی سامنے آئی ہیں، جس کے تحت ابتدائی طور پر ادویات کی برآمد اور بعد ازاں مقامی پیداوار و ٹیکنالوجی ٹرانسفر شامل ہے۔

ادھر نومبر 2025 میں افغانستان نے پاکستانی ادویات کی درآمد پر مرحلہ وار پابندی کا اعلان کیا، جس کی وجہ “معیار سے متعلق خدشات” بتائی گئی۔ تاہم تاحال کسی شفاف، تیسرے فریق کی جانب سے آزاد فارماکولوجیکل ٹیسٹنگ یا ریگولیٹری رپورٹ منظرِ عام پر نہیں آئی۔ اس کے برعکس، طالبان سے منسلک ایک فوجی صحت عہدیدار کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاری ویڈیو میں پاکستانی ادویات کو “جعلی” قرار دیا گیا، جس کے دعوے آزادانہ طور پر تصدیق شدہ نہیں ہیں۔

ماہرین کے مطابق کسی بڑے سپلائر کی اچانک بندش نے افغان منڈیوں میں ادویات کی قلت اور قیمتوں میں اضافے کو جنم دیا ہے، جس سے براہِ راست مریض متاثر ہو رہے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ “ادویات کی حفاظت” کے نام پر فیصلے اگر شفاف سائنسی جانچ کے بغیر کیے جائیں تو یہ عوامی صحت کے بجائے اسٹریٹجک ری الائنمنٹ کا تاثر دیتے ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق افغانستان کا بھارت کی طرف جھکاؤ، اکتوبر کی سرحدی کشیدگی کے بعد پاکستان سے تجارتی و سفارتی روابط میں سرد مہری کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ اس تناظر میں صحت کے بیانیے کو جیوپولیٹیکل ہتھیار بنانا علاقائی اعتماد، ریگولیٹری تعاون اور عوامی صحت کے نظم و نسق کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ ترقیاتی حق تسلیم شدہ ہے، مگر مشترکہ نظامِ آب و تجارت اور صحت جیسے شعبوں میں شفافیت اور تعاون ناگزیر ہیں۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ کہ ایک سپلائی چین کو دوسری سے بدلتے وقت اگر آزادانہ تصدیق اور تدریجی نفاذ نہ ہو تو اس کی قیمت سیاسی اشاروں کے بجائے عام افغان مریضوں کو چکانا پڑتی ہے۔

متعلقہ مضامین

افغانستان میں شدید غذائی قلت اور صحت کے نظام پر بڑھتے دباؤ پر اوچا نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان حکومت کی ترجیحات اور امدادی فنڈز کی شفافیت پر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

November 4, 2026

مکہ مکرمہ میں مسجد کے تقدس کی پامالی پر 2 بنگلہ دیشی شہریوں کو سزائے موت دے دی گئی، جبکہ عدالتی تحقیقات کے ذریعے ملزمان کے حق میں پھیلائی جانے والی گمراہ کن افواہوں کو رد کر دیا گیا۔

November 4, 2026

طلبہ سیاست سے عسکریت پسندی تک کا سفر طے کرنے والے بشیر زیب کون ہیں، جنہیں کالعدم بی ایل اے نے سربراہی کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔

November 4, 2026

ٹرمپ نے ایران کے خلاف بڑی فوجی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو کچھ بڑا کرنا ہوگا۔

November 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *