عالمی یومِ ماحولیات کے موقع پر جنوبی ایشیا میں موسمیاتی تبدیلیوں اور سرحد پار آبی وسائل کے انتظام کا معاملہ ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے۔ ماہرین اور مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں بڑھتے ہوئے ماحولیاتی دباؤ، گلیشیئرز کے پگھلاؤ اور بے ترتیب بارشوں کے دوران بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو معطل حالت میں رکھنے کا یکطرفہ فیصلہ پاکستان کی ماحولیاتی اور آبی سلامتی کے لیے شدید خطرات کا باعث بن رہا ہے۔
یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں پیدا ہو رہی ہے جب پاکستان پہلے ہی ماحولیاتی تنزلی اور پانی کی شدید قلت کا سامنا کر رہا ہے، اور اس تناظر میں ادارہ جاتی نظام کی کمزوری پورے خطے کو ایک بڑے انسانی بحران کی طرف دھکیل سکتی ہے۔
دریائے سندھ کا طاس پاکستان کی زراعت، پن بجلی، معیشت اور صحتِ عامہ کے نظام کے لیے لائف لائن کی حیثیت رکھتا ہے۔ 1960 کا سندھ طاس معاہدہ طویل عرصے تک دونوں ممالک کے مابین آبی وسائل کی منصفانہ تقسیم اور سیلابی تعاون کا ایک معتبر ذریعہ رہا ہے، تاہم بالائی دھارے کی ریاست کی حیثیت سے بھارت کی موجودہ پالیسیوں نے اس پائیدار فریم ورک کو مفلوج کر دیا ہے۔ اس تعطل کے نتیجے میں دریا ئی بہاؤ میں مصنوعی اتار چڑھاؤ، سیلاب، اور خشک سالی کے خطرات بڑھ گئے ہیں، جو پاکستان کے حساس زرعی علاقوں میں غذائی تحفظ اور زمین کی زرخیزی کو براہِ راست متاثر کر رہے ہیں۔
ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ سرحد پار دریا ئی نظاموں کے تحفظ کے لیے مشترکہ نگرانی اور پائیدار انتظام ناگزیر ہے۔ بھارت کا موجودہ طرزِ عمل بین الاقوامی ماحولیاتی اصولوں اور قانونی ذمہ داریوں سے انحراف کی عکاسی کرتا ہے، جس سے نہ صرف حیاتیاتی تنوع اور میٹھے پانی کے ماحولیاتی نظام کو نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ بڑے پیمانے پر ماحولیاتی نقل مکانی کے خدشات بھی پیدا ہو رہے ہیں۔
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اس سنگین معاملے کا نوٹس لے، کیونکہ پائیدار اور موسمیاتی لحاظ سے موافق آبی تعاون ہی جنوبی ایشیا کو کسی بڑے معاشی اور انسانی المیے سے محفوظ رکھ سکتا ہے۔