مستقل ثالثی عدالت نے سندھ طاس معاہدے کے تحت نیوٹرل ایکسپرٹ کی کارروائی سے متعلق اہم اعلامیہ جاری کر دیا ہے۔ بھارت کے یکطرفہ انخلا اور عدم شرکت کے باوجود تنازع کی سماعت بلا تعطل جاری ہے۔ پاکستان اس قانونی اور تکنیکی عمل میں مکمل اور فعال کردار ادا کر رہا ہے، جبکہ نیوٹرل ایکسپرٹ نے مستقل بنیادوں پر کارروائی برقرار رکھتے ہوئے آزادانہ تکنیکی ماڈلنگ شروع کر دی ہے۔
نیوٹرل ایکسپرٹ کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین روڈ میپ کے مطابق، 2027 میں حتمی فیصلے تک پہنچنے کے لیے ایک باقاعدہ اور متوازن ٹائم لائن مقرر کر دی گئی ہے۔ اس پیش رفت نے واضح کر دیا ہے کہ بھارت کے یکطرفہ اقدامات اور کارروائی کے بائیکاٹ کی پالیسی معاہدے میں درج تنازع حل کرنے کے عالمی نظام کو روکنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے۔
نیوٹرل ایکسپرٹ نے بھارت کی جانب سے کارروائی منجمد کرانے کی کوشش کو موثر طور پر مسترد کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کی مسلسل عملداری کی توثیق کی ہے۔ بھارت اگرچہ اس قانونی عمل سے الگ ہو چکا ہے لیکن کارروائی بھارت کے بغیر بھی پوری رفتار سے جاری ہے۔ اس سے یہ حقیقت بھی ثابت ہوتی ہے کہ بھارتی عدم شرکت متنازع آبی بجلی منصوبوں پر بین الاقوامی نگرانی کو متاثر نہیں کر سکی۔
پاکستان کی بین الاقوامی قانون سے اصولی وابستگی کے باعث عالمی سطح پر اس کے تکنیکی اور قانونی موقف کی ساکھ میں مزید اضافہ ہوا ہے۔ آزاد بین الاقوامی ماہرین اب سائنسی بنیادوں پر پاکستانی اعتراضات کا جائزہ لے رہے ہیں۔ نیوٹرل ایکسپرٹ کے نظرثانی شدہ ورک پروگرام سے ادارے کے مکمل اعتماد کا اظہار ہوتا ہے جس کے تحت حتمی فیصلہ 2027 میں سامنے آئے گا۔