اس سے قبل اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں اتوار کے روز احمدی نژاد شہید ہوگئے ہیں۔

March 4, 2026

ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض علاقوں میں نوجوانوں کو خاندانوں کی رضامندی کے بغیر فرنٹ لائنز پر بھیجا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ملک کے شمالی علاقوں سے متعدد افراد کو سرحدی علاقوں کی جانب منتقل کیا گیا ہے۔ صوبہ تخار سے ایک ذریعے نے دعویٰ کیا ہے کہ جبری بھرتیوں میں طالبان ارکان اور عام شہریوں کے درمیان فرق نہیں رکھا جا رہا اور مقامی طالبان افسران کے ذریعے افراد کو کابل منتقل کر کے وہاں سے سرحدی محاذوں پر بھیجا جا رہا ہے۔

March 4, 2026

جس کا رزق اور جس کا جینا مرنا کسی اور کی مرضی کے تابع ہو، اس سے بے لاگ حق گوئی کی توقع مشکل ہوتی ہے۔ یہی پس منظر بھارتی مولانا سلمان حسینی ندوی کے بیانات اور ان کے طرزِ فکر پر بھی سوال اٹھاتا ہے

March 4, 2026

افغان طالبان کے ایک کمانڈر نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر مالی امداد فراہم کی جائے تو وہ ایران کے خلاف زمینی فوجی کارروائی کے لیے تیار ہیں

March 4, 2026

ریفارم یو کے کی رہنما لیلا کننگھم نے ایک مجرمانہ واقعے کو بنیاد بنا کر پاکستان کو نشانہ بنانے کی کوشش کی، تاہم برطانوی وزارتِ انصاف کے سرکاری اعداد و شمار ان کے نسل پرستانہ بیانیے کی نفی کر رہے ہیں

March 4, 2026

خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی بندش کے خدشات کے پیشِ نظر سعودی عرب نے پاکستان کی توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے متبادل بحری راستے اور یانبو بندرگاہ کے استعمال کی یقین دہانی کرا دی ہے

March 4, 2026

ہانیہ عامر، ماہرہ خان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بھارت میں بلاک

Instagram accounts of major Pakistani celebrities are now blocked in India. The affected names include Hania Aamir, Mahira Khan, Ali Zafar, Sajal Aly, Sanam Saeed, and Imran Abbas.
Instagram accounts of major Pakistani celebrities are now blocked in India.

Instagram accounts of major Pakistani celebrities are now blocked in India. The affected names include Hania Aamir, Mahira Khan, Ali Zafar, Sajal Aly, Sanam Saeed, and Imran Abbas.

May 2, 2025

نیوز ڈیسک – 2 مئی 2025: پاکستان کی مشہور شوبز شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس بھارت میں بلاک کر دیے گئے ہیں۔ متاثرہ سٹارز میں ہانیہ عامر، ماہرہ خان، علی ظفر، سجل علی، صنم سعید، اور عمران عباس شامل ہیں۔

بھارتی صارفین جب ان سٹارز کے پروفائلز تک رسائی کی کوشش کرتے ہیں تو ایک پیغام نظر آتا ہے:
“یہ اکاؤنٹ بھارت میں دستیاب نہیں ہے۔”
اس نوٹس میں مزید کہا گیا ہے کہ یہ پابندی ایک قانونی درخواست کے بعد لگائی گئی ہے، جو بھارتی حکام کی مداخلت کو ظاہر کرتی ہے۔

مقبول یوٹیوب چینلز جیسے کہ ہم ٹی وی اور اے آر وائی ڈیجیٹل پر بھی بھارت میں پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ تاہم، ان چینلز کی بعض انفرادی شوز کی قسطیں اب بھی دستیاب ہیں۔ یوٹیوب پر صارفین کو یہ پیغام ملتا ہے کہ
“یہ مواد حکومتی حکم کی وجہ سے دستیاب نہیں ہے۔”
اس کی وجہ قومی سلامتی یا عوامی نظم و ضبط بتائی گئی ہے۔

دوسری جانب فواد خان، عاطف اسلم، اور راحت فتح علی خان جیسے دیگر پاکستانی فنکاروں کے انسٹاگرام اکاؤنٹس بلاک نہیں ہوئے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یا تو یہ عمل منتخب طور پر کیا گیا ہے یا ابھی مکمل نہیں ہوا۔

اس سے قبل بھارت نے پاکستانی فنکاروں پر اپنی انٹرٹینمنٹ انڈسٹری میں کام کرنے پر پابندی لگا دی تھی، جس کی وجہ قومی پالیسی وجوہات بتائی گئی تھیں۔ اگرچہ حکام کی جانب سے ان حالیہ بلاکس پر کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا، مگر یہ اقدام ایک وسیع تر میڈیا پابندی کی پالیسی کا حصہ معلوم ہوتا ہے۔

ان اقدامات نے ڈیجیٹل سنسرشپ اور سرحد پار مواد پر کنٹرول کے حوالے سے بحث چھیڑ دی ہے۔ ناقدین سوال اٹھا رہے ہیں کہ قومی سلامتی کے نام پر فنکارانہ اظہار کو محدود کرنا کہاں تک درست ہے۔

ثقافتی تعاون کے حامی ان پابندیوں کو ایک افسوسناک رکاوٹ قرار دے رہے ہیں، جب کہ ڈیجیٹل حقوق کے علمبرداروں کا کہنا ہے کہ ایسی سنسرشپ کارروائیوں میں شفافیت ہونی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

اس سے قبل اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملوں میں اتوار کے روز احمدی نژاد شہید ہوگئے ہیں۔

March 4, 2026

ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض علاقوں میں نوجوانوں کو خاندانوں کی رضامندی کے بغیر فرنٹ لائنز پر بھیجا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق ملک کے شمالی علاقوں سے متعدد افراد کو سرحدی علاقوں کی جانب منتقل کیا گیا ہے۔ صوبہ تخار سے ایک ذریعے نے دعویٰ کیا ہے کہ جبری بھرتیوں میں طالبان ارکان اور عام شہریوں کے درمیان فرق نہیں رکھا جا رہا اور مقامی طالبان افسران کے ذریعے افراد کو کابل منتقل کر کے وہاں سے سرحدی محاذوں پر بھیجا جا رہا ہے۔

March 4, 2026

جس کا رزق اور جس کا جینا مرنا کسی اور کی مرضی کے تابع ہو، اس سے بے لاگ حق گوئی کی توقع مشکل ہوتی ہے۔ یہی پس منظر بھارتی مولانا سلمان حسینی ندوی کے بیانات اور ان کے طرزِ فکر پر بھی سوال اٹھاتا ہے

March 4, 2026

افغان طالبان کے ایک کمانڈر نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر مالی امداد فراہم کی جائے تو وہ ایران کے خلاف زمینی فوجی کارروائی کے لیے تیار ہیں

March 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *