کوئٹہ: بلوچستان میں دہشت گردوں کے خلاف نبرد آزما سکیورٹی فورسز کی گاڑی کو آئی ای ڈی دھماکے کا نشانہ بنایا گیا ہے جس کے نتیجے میں میجر توصیف احمد بھٹی سمیت پانچ اہلکار جامِ شہادت نوش کر گئے ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ 13 مئی کی دوپہر اس وقت پیش آیا جب سکیورٹی فورسز کی گاڑی معمول کے گشت پر تھی۔ دھماکے کے فوری بعد فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر جوابی کارروائی کی جس میں آٹھ دہشت گردوں کو جہنم واصل کر دیا گیا ہے۔
میجر توصیف احمد بھٹی کا تعلق آرٹلری کی 171 فیلڈ ریجمنٹ سے تھا اور وہ ان دنوں 80 فیلڈ ریجمنٹ میں اپنی خدمات سرانجام دے رہے تھے۔ میجر توصیف نے سوگواران میں بیوہ، ایک بیٹا اور ایک بیٹی چھوڑے ہیں۔ وطنِ عزیز کی خاطر دی جانے والی اس عظیم قربانی پر پوری قوم رنجیدہ ہے اور شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے دعاگو ہے۔ سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاک فوج کے افسران اور جوانوں کا خون رائیگاں نہیں جائے گا اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک آپریشنز جاری رہیں گے۔
بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کی لہر کے پیچھے وہی بیرونی قوتیں متحرک نظر آتی ہیں جو پاکستان کے امن اور استحکام کو نقصان پہنچانا چاہتی ہیں۔ اس سے قبل بھی جامعہ حقانیہ جیسی دینی و علمی درسگاہوں اور ریاست کے دفاعی اداروں کو نشانہ بنانے کی مذموم کوششیں کی جا چکی ہیں۔ ماہرین کے مطابق سکیورٹی فورسز پر یہ بزدلانہ حملے دراصل دہشت گردوں کی بوکھلاہٹ کا نتیجہ ہیں کیونکہ وہ براہِ راست مقابلے کی ہمت کھو چکے ہیں۔
پاکستانی قوم اپنے ان لختِ جگروں کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے جنہوں نے اپنی جوانی اور گھر بار کی خوشیاں ملک کے امن پر قربان کر دیں۔ ان شہداء کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریاستِ پاکستان اپنی خودمختاری اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گی۔ دشمن چاہے کتنی ہی سازشیں کر لے، سکیورٹی فورسز اور عوام کے مضبوط عزم کو شکست دینا ناممکن ہے۔