ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکہ کو سخت جواب دینے کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ ایران کے مفادات اور سلامتی کے خلاف آئندہ کسی بھی حملے کا جواب پہلے سے زیادہ تیز، شدید اور تکلیف دہ ہوگا۔
قالیباف نے واضح کیا کہ امریکہ کو سمجھ لینا چاہیے کہ ایران کی جانب سے محدود اور نپے تلے ردعمل کا دور ختم ہو چکا ہے۔
محمد باقر قالیباف نے پارلیمنٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ کارروائیوں میں جارح قوتوں کے اڈوں پر کیے گئے ایرانی حملے صرف آغاز ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کو اس سے پہلے سمجھ لینا چاہیے کہ جنگ کے قواعد تبدیل ہو چکے ہیں۔
قالیباف کے مطابق ایران کے مفادات اور سلامتی کے خلاف کسی بھی جارحیت کا جواب اب زیادہ تیز، زیادہ شدید اور زیادہ تکلیف دہ ہوگا۔
محدود ردعمل کا دور ختم
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر نے کہا کہ امریکہ کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ متناسب ردعمل کا دور ختم ہو چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران آئندہ اپنے مفادات اور سلامتی کو درپیش کسی بھی خطرے کا فوری جواب دے گا۔
اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ تہران امریکہ کے ساتھ جاری کشیدگی میں اپنی جوابی کارروائیوں کو مزید سخت کرنے کا عندیہ دے رہا ہے۔
کشیدگی میں اضافہ
قالیباف کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی فورسز نے حالیہ کارروائی میں تین ایرانی آئل ٹینکرز کو نشانہ بنایا۔ اس سے قبل ایران کی پاسداران انقلاب نے دو امریکی بحری جہازوں کی جانب بیلسٹک میزائل داغنے کا اعلان کیا تھا۔
اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ خطے میں بحری نقل و حرکت اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے بھی خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
آبنائے ہرمز کی صورتحال
دوسری جانب ایران نے آبنائے ہرمز کے قریب ایک محدود بحری زون قائم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق اس زون سے متعلق مزید تفصیلات آنے والے دنوں میں سامنے آسکتی ہیں۔ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے۔
حالیہ کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں بھی تشویش بڑھ گئی ہے۔ 7 ستمبر کو عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ اس کی ایک بڑی وجہ آبنائے ہرمز میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور تیل کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر کی تازہ وارننگ سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
ایران نے واضح کیا ہے کہ مستقبل میں اس کے مفادات یا سلامتی کو نشانہ بنایا گیا تو جواب پہلے سے زیادہ سخت ہوگا۔
دوسری جانب امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی کے ساتھ ساتھ اقتصادی دباؤ اور آبنائے ہرمز کی صورتحال بھی خطے کے لیے اہم مسئلہ بن گئی ہے۔
دیکھیے: آبنائے ہرمز میں 3 جہازوں کو نشانہ بنایا، پاسداران انقلاب