مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے اور جوہری معاملات پر بریک تھرو کے لیے ایک بڑی سفارتی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ بین الاقوامی جریدے ‘وال اسٹریٹ جرنل’ کی رپورٹ کے مطابق ایران نے ایک نئی تجویز پیش کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اگر امریکہ باضابطہ طور پر مذاکرات کا حصہ بنتا ہے، تو تہران آئندہ ہفتے کے اوائل میں پاکستان کی میزبانی میں براہِ راست مذاکرات کے لیے تیار ہے۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے جوہری اور میزائل معاملات پر بات چیت کی یہ نئی پیش کش اس بات کی علامت ہے کہ طویل عرصے سے تعطل کا شکار مذاکراتی عمل اب حقیقت میں آگے بڑھ رہا ہے۔ معروف صحافی انس ملک نے اس حوالے سے بتایا کہ ایران کی اس تجویز سے ظاہر ہوتا ہے کہ فریقین کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے کے لیے سنجیدہ ہیں۔ ان کے مطابق، اس وقت بنیادی اختلاف صرف مذاکرات کے وقت پر ہو سکتا ہے، جسے باہمی مشاورت سے حل کیا جا سکتا ہے۔
Iran in its latest proposal has signalled its readiness for [in person] talks in Pakistan as early as next week if the US engages, as per WSJ. https://t.co/2DiMoI8HpZ
— Anas Mallick (@AnasMallick) May 2, 2026
تجزیہ کاروں کے مطابق، اسلام آباد میں 11 اپریل کو متوقع ان مذاکرات کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کیونکہ اس میں دونوں ممالک کے اعلیٰ سطح کے وفود کی شرکت کا امکان ہے۔ پاکستان، جو کہ خطے میں امن و استحکام کا حامی ہے، اس تاریخی ملاقات کے لیے ایک سہولت کار کے طور پر اپنا بھرپور کردار ادا کرنے کے لیے تیار نظر آتا ہے۔
اگر یہ مذاکرات طے شدہ شیڈول کے مطابق ہوتے ہیں، تو یہ خطے کی جیو پولیٹکس اور عالمی سلامتی کے حوالے سے ایک سنگِ میل ثابت ہوں گے، جس سے نہ صرف ایران اور امریکہ کے تعلقات بلکہ عالمی سطح پر جوہری عدم پھیلاؤ کی کوششوں کو بھی تقویت ملے گی۔