امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ موجودہ تناؤ اور سفارتی صورتحال کو شطرنج کے کھیل سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اس معاملے پر فوری دباؤ بڑھانے کے بجائے انتہائی محتاط انداز میں پیش رفت کر رہا ہے۔
امریکی ٹیلی ویژن سی این این کو دیے گئے ایک ٹیلی فونک انٹرویو میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان بیک ڈور یا خاموش سفارت کاری کے ذریعے محدود پیمانے پر گفتگو کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ فی الوقت ایران پر عائد کی گئی اقتصادی پابندیوں اور ان کے اثرات کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے۔
ایرانی معیشت کا ذکر کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اس وقت ایران شدید ترین معاشی بحران اور افراط زر کا شکار ہے۔ تہران حکومت کے پاس مالی وسائل کی شدید کمی ہے، حتیٰ کہ ان کے پاس اپنی افواج کو باقاعدگی سے تنخواہیں ادا کرنے کے لیے بھی رقم موجود نہیں ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ خطے میں صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے اور امریکا اپنی حکمت عملی کے تحت خاموشی سے معاملات کو آگے بڑھا رہا ہے تاکہ معاشی دباؤ کے نتائج واضح ہو سکیں۔