سری نگر: جموں و کشمیر کے وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ ان کی حکومت خطے میں ’جنگل راج‘ کی اجازت نہیں دے گی اور امن و استحکام کو ہر صورت برقرار رکھا جائے گا، جبکہ رامبن میں حالیہ قتل کے واقعے پر ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
منگل کو بیجبہاڑہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت جموں و کشمیر میں ایک ’نئے دور‘ کا آغاز چاہتی ہے جہاں پائیدار امن اور مستحکم حالات کو یقینی بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض عناصر خطے میں امن کے قیام کے خلاف ہیں اور فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینا چاہتے ہیں۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ جب تک ان کی حکومت اقتدار میں ہے، ایسے عناصر کو اپنے عزائم میں کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ حکومت قانون و انتظام کی صورتحال کو خراب ہونے سے روکنے کے لیے سخت اقدامات کرے گی۔
وزیراعلیٰ نے کسی مخصوص فرد یا گروہ کا نام لیے بغیر کہا کہ کچھ عناصر دانستہ طور پر موجودہ پرامن ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم حکومت ان سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔
اس موقع پر انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے مطالبہ کیا کہ رامبن میں حالیہ قتل کے واقعے میں ملوث افراد کے خلاف فوری اور سخت کارروائی کی جائے، تاکہ واضح پیغام دیا جا سکے کہ بدامنی اور قانون شکنی کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح عوام کے جان و مال کا تحفظ اور خطے میں دیرپا امن کا قیام ہے، اور اس مقصد کے لیے تمام ممکنہ اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
دیکھئیے:ماننا ہو گا کہ پاکستان نے وہ کیا جو باقی نہیں کر سکے: عمر عبداللہ