لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

جنگ ستمبر: 17ویں روز سیالکوٹ میں بھارتی فوج کو بڑا نقصان

جنگ ستمبر 1965 کے 17ویں روز سیالکوٹ اور کھیم کرن سیکٹرز میں شدید لڑائی ہوئی، جبکہ بھارتی فوج کو ٹینکوں اور توپوں سمیت بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔
جنگ ستمبر 1965

جنگ ستمبر کے 17ویں روز سیالکوٹ اور کھیم کرن میں بھارتی فوج کو ٹینکوں اور توپوں سمیت بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔

September 17, 2026

جنگ ستمبر 1965 کے 17ویں روز پاک بھارت محاذ پر شدید لڑائی جاری رہی۔ مختلف سیکٹرز میں پاک فوج اور پاک فضائیہ نے بھارتی فورسز کے خلاف کارروائیاں کیں۔

سیالکوٹ سیکٹر میں پاک فوج کے حملوں کے دوران بھارتی فوج کو بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ دستیاب جنگی ریکارڈ کے مطابق بھارت نے اس روز 51 ٹینک اور 14 توپیں کھوئیں۔

17 ستمبر کو بھارتی فضائیہ کے طیاروں نے ایک پاکستانی مسافر ٹرین کو نشانہ بنایا۔ اس حملے میں 20 مسافر شہید جبکہ 48 زخمی ہوئے۔

دوسری جانب پاک فوج کی آرٹلری نے کھیم کرن سیکٹر میں کارروائی کی۔ اس دوران بھارتی فوج کے 4 ٹینک تباہ کیے گئے۔

سیالکوٹ میں شدید لڑائی

سیالکوٹ سیکٹر میں دونوں جانب سے حملے جاری رہے۔ پاک فوج نے بھارتی پوزیشنز کو نشانہ بنایا اور بھارتی فورسز کو نقصان پہنچایا۔

جنگی ریکارڈ کے مطابق جنگ کے دوران پاکستان نے بھارت کے 442 ٹینک تباہ کیے۔ اس کے علاوہ 17 بھارتی ٹینکوں کو درست حالت میں قبضے میں لینے کا بھی دعویٰ کیا گیا۔

پاک فضائیہ نے بھی مختلف محاذوں پر کارروائیاں جاری رکھیں۔ پاکستانی طیاروں نے سامبا اور جموں کے علاقوں کے علاوہ بھارتی فضائی اڈوں کو نشانہ بنایا۔

ان کارروائیوں میں بھارتی فضائی تنصیبات اور دیگر فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

اقوام متحدہ میں کشمیر کا معاملہ

جنگ کے دوران صدر ایوب خان نے اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر کے حل پر پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کے حتمی حل کے لیے مؤثر ذرائع اور طریقے وضع کیے جانے چاہییں۔

جنگ کے مختلف مراحل میں پاک فوج نے کئی محاذوں پر پیش قدمی بھی کی۔ دستیاب پاکستانی جنگی ریکارڈ کے مطابق تقریباً 500 مربع میل بھارتی علاقے پر قبضہ کیا گیا۔ اس میں اکھنور، کھیم کرن اور راجستھان سیکٹر کے علاقے شامل تھے۔

اسی دوران پاکستانی ریکارڈ کے مطابق بھارتی فوج کے 20 افسران، 19 جونیئر کمیشنڈ افسران اور 530 اہلکار جنگی قیدی بنائے گئے۔

ستمبر کے 17واں روز بھی جنگ کے ان اہم مراحل میں شامل تھا جب سیالکوٹ، کھیم کرن اور دیگر محاذوں پر شدید لڑائی جاری رہی۔

دیکھیے: جنگِ ستمبر 1965: جب 16ویں روز بھارتی فوج کا جانی نقصان 6889 تک جاپہنچا

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *