بھارتی ریاست جھارکھنڈ کے دارالحکومت رانچی میں امتحانی شفافیت اور اصلاحات کے لیے جاری طلبہ کا احتجاج شدت اختیار کر گیا ہے۔
جے ایس ایس سی-سی جی ایل پیپر لیک کیس کی سی آئی ڈی کی تحقیقاتی رپورٹ منظرِ عام پر آنے کے بعد ریاستی حکومت کی پردہ پوشی بے نقاب ہو گئی ہے۔
سی آئی ڈی رپورٹ کے مطابق ستمبر 2024ء میں منعقد ہونے والے اس امتحان کے پرچے واٹس ایپ کے ذریعے لیک کیے گئے اور رقم کی ادائیگی کرنے والے امیدواروں کو نیپال تک جوابات پہنچائے گئے۔
تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ امتحان کے دوران انٹرنیٹ کی معطلی کے باوجود پیپر لیک گینگ نے لینڈ لائن فونز کے ذریعے جوابات لکھوائے، جبکہ مارچ 2025 میں سی آئی ڈی نے 150 میں سے 120 سوالات کے لیک ہونے کی باقاعدہ تصدیق کی تھی۔
تاہم، ریاستی حکومت نے سی آئی ڈی کی اس رپورٹ کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے ایک نئی ایس آئی ٹی تشکیل دی جس نے پیپر لیک کے تمام الزامات کو یکسر مسترد کر کے امتحان کو شفاف قرار دے دیا۔
اس کے بعد جے پی ایس سی کے امتحانات میں بھی دوبارہ پرچہ لیک ہونے پر طلبہ کا غصہ بھڑک اٹھا اور ریاست گیر احتجاجی تحریک شروع ہو گئی۔
طلبہ رہنما دیویندر ناتھ مہتو کی قیادت میں رانچی کے جے پال سنگھ منڈا اسٹیڈیم میں طلبہ کا دھرنا مسلسل 16ویں روز بھی جاری ہے۔
اگرچہ حکومت اور طلبہ کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات کے کئی ادوار ناکام ہو چکے ہیں، تاہم جھارکھنڈ کی وزیر دیپیکا سنگھ نے اعتراف کیا ہے کہ طلبہ کے تحفظات درست ہیں اور حکومت جلد اس کا حل نکالے گی۔