کراچی کے علاقے لیاری میں 19 سالہ نئی نویلی دلہن کو مبینہ طور پر شوہر کے ہاتھوں ’وحشیانہ جنسی تشدد‘ کا نشانہ بنائے جانے کے بعد تشویشناک حالت میں سول اسپتال کے ٹراما سینٹر منتقل کر دیا گیا۔ پولیس نے شوہر کو گرفتار کر لیا ہے۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ سید نے بتایا کہ متاثرہ لڑکی کی شادی 15 جون کو لیاری میں ہوئی تھی۔ اس وقت وہ کوما میں ہے۔ ان کے جسمانی معائنے کی رپورٹ جنسی تشدد کے عین مطابق ہے۔
متاثرہ لڑکی کے بھائی کی مدعیت میں درج ایف آئی آر کے مطابق واقعہ شادی کے تیسرے دن پیش آیا۔ متاثرہ لڑکی نے شوہر پر ’غیر فطری فعل‘ اور جسم میں غیر فطری چیز داخل کرنے کا الزام لگایا۔ تشدد کے بعد اسے خون جاری ہو گیا اور حالت بگڑ گئی۔
متاثرہ خاندان نے پہلے نجی اسپتال سے علاج کرایا لیکن بہتری نہ آنے پر سول اسپتال کے آئی سی یو میں منتقل کر دیا گیا۔ ایف آئی آر کے مطابق، شوہر نے بیوی کو دھمکایا کہ کسی کو کچھ بتایا تو نتائج سنگین ہوں گے۔
کراچی جنسی تشدد کیس نے معاشرتی بے حسی اور قانون پر عملدرآمد میں خامیوں کو بے نقاب کیا ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان میں ریپ کے مجرم کو سزائے موت یا 10 سے 25 سال قید کی سزا دی جا سکتی ہے مگر اس کے باوجود ایسے واقعات مسلسل پیش آ رہے ہیں۔