بلوچستان کے ضلع خضدار میں شہید سکندر زہری یونیورسٹی کی تعمیر 2 ارب 84 کروڑ روپے کی لاگت سے مکمل کر لی گئی ہے۔ وسطی بلوچستان کی اس جنرل یونیورسٹی میں بی ایس کے 4 پروگرامز میں داخلوں کا اعلان بھی کر دیا گیا ہے۔
خضدار میں حلوائی پہاڑوں کے دامن میں قائم یونیورسٹی میں مصنوعی ذہانت (اے آئی)، انگلش، بزنس ایڈمنسٹریشن اور ایجوکیشن کے شعبوں میں تعلیم دی جائے گی۔ یونیورسٹی میں باقاعدہ تدریسی سرگرمیوں کا آغاز مارچ 2027 میں ہوگا۔
شہید سکندر زہری یونیورسٹی کے پہلے وائس چانسلر ڈاکٹر سہراب بزنجو مقرر کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق داخلوں کے اعلان کے بعد نوجوانوں کی بڑی تعداد درخواستیں جمع کرا رہی ہے۔
یونیورسٹی میں بی ایس انگلش، بیچلر آف بزنس ایڈمنسٹریشن (بی بی اے)، بی ایس آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور بیچلر آف ایجوکیشن (بی ایڈ) پروگرامز میں داخلے جاری ہیں۔
نوجوانوں کے لیے تعلیم کے نئے مواقع
یونیورسٹی کے قیام سے خضدار، جھالاوان اور وسطی بلوچستان کے دیگر علاقوں کے نوجوانوں کو اپنے علاقے میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔
اس سے ان طلبہ کو بھی فائدہ پہنچے گا جو مالی مشکلات یا دیگر وجوہات کی بنا پر دوسرے شہروں کی جامعات میں داخلہ نہیں لے سکتے۔
خصوصاً طالبات کے لیے یہ پیشرفت اہم ہے، کیونکہ انہیں تعلیم کے لیے دوسرے شہروں میں منتقل ہونے کی ضرورت کم پڑے گی۔
یونیورسٹی کے قیام سے علاقے میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کی بھی توقع ہے۔ اسے وسطی بلوچستان میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے ایک اہم منصوبہ قرار دیا جا رہا ہے۔





