خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہو چکی ہے۔ صوبے میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات نے وفاق کو متحرک کر دیا ہے۔ انتظامی کمزوریوں کے باعث حکومت سخت فیصلے کرنے پر مجبور ہے۔
وزیراعظم ہاؤس میں اس سلسلے میں ایک اہم اجلاس طلب کیا گیا ہے۔ اس اجلاس میں وفاقی وزراء اور اعلیٰ سکیورٹی حکام شریک ہونگے۔ ذرائع کے مطابق صوبے کی مجموعی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
امن و امان اور آئینی راستہ
اجلاس میں خیبر پختونخوا میں گورنر راج لگانے پر سنجیدگی سے غور ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ صوبے میں ایمرجنسی کے نفاذ کا آپشن بھی زیرِ بحث ہے۔ اس مقصد کے لیے آئین کے آرٹیکل 233 اور 234 کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
وفاقی وزراء کا مؤقف ہے کہ صوبائی حکومت امن قائم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ وزراء کے مطابق صوبے میں دہشت گردی اور مالی بدانتظامی عروج پر پہنچ چکی ہے۔ سکیورٹی اداروں کو درکار ضروری تعاون بھی نہیں مل رہا۔
دوسری طرف تحریک انصاف کے اندر سے بھی تحفظات سامنے آ رہے ہیں۔ پی ٹی آئی رہنما شوکت یوسفزئی نے پارٹی قیادت کو خط لکھا ہے۔ انہوں نے کشیدہ حالات کے باعث لانگ مارچ موخر کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ وزیراعظم ہاؤس کے اجلاس کے بعد حتمی فیصلے متوقع ہیں۔
دیکھیے: کے پی میں 799 ارب بجٹ کے باوجود بدامنی برقرار، فنڈز کے استعمال پر سنگین سوالات