لکی مروت کی غیور اور محبِ وطن عوام نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ ریاست اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ کھڑے ہیں اور کسی کو بھی ریاست مخالف پروپیگنڈے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
لکی مروت تاریخ کے ہر دور میں دہشت گردی کے خلاف ایک مضبوط دیوار ثابت ہوا ہے، جہاں یکم جنوری 2010 کو شاہ حسن خیل میں ٹی ٹی پی کے خودکش حملے کے نتیجے میں 105 بے گناہ افراد نے جامِ شہادت نوش کیا تھا۔
پاک فوج نے پولیس اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے ساتھ مل کر خطے کو دہشت گردوں سے پاک کیا، جبکہ مقامی مروت قبیلے نے امن کمیٹیوں کے ذریعے دہشت گردی کے خلاف بے شمار قربانیاں دیں۔
حالیہ دنوں میں 8 اگست کو ناصر خیل میں پیش آنے والے واقعے میں گورنمنٹ بوائز ہائی اسکول میں پاک فوج کی جانب سے ایک مفت طبی کیمپ قائم کیا گیا تھا، جہاں مقامی شہریوں کو صحت کی سہولیات اور ادویات فراہم کی جا رہی تھیں۔
تاہم ایک خود ساختہ اور نام نہاد امن کمیٹی نے غریب اور مستحق شہریوں کو طبی امداد کے حصول سے روکنے، دھمکانے اور کیمپ کو فوجی کیمپ قرار دے کر پراپیگنڈا کرنے کی کوشش کی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق سیکیورٹی فورسز کو دہشت گردوں کے برابر قرار دینا یا خود ساختہ طور پر علاقہ کلیئر کرانے کا دعویٰ کرنا ریاست کے وجود اور اس کے قانونی اختیارات کو چیلنج کرنے کے مترادف ہے۔
مروت قبیلے کی حقیقی عزت اور فخر ریاستی اداروں کی حمایت میں مضمر ہے، اور عوام پر یہ واضح ہو چکا ہے کہ غریبوں کے علاج میں رکاوٹ ڈالنے والے عناصر مروت قبیلے یا لکی مروت کے عوام کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے۔