برطانیہ میں پاکستان علما کونسل کے سربراہ مولانا طاہر اشرفی پر سیاسی احتجاج کے نام پر ہونے والا حالیہ حملہ اور ہراسگی کا واقعہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے، بلکہ اس نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانی کمیونٹی اور برطانوی قوانین کے سامنے کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ اس واقعے کے بعد یہ بحث شدت اختیار کر گئی ہے کہ کیا پی ٹی آئی یوکے چیپٹر کے بعض عناصر سیاسی اختلاف کو غنڈہ گردی، ہراسگی اور منظم دباؤ کے کلچر میں تبدیل کر چکے ہیں؟
حملے میں ملوث گینگ اور اس کے کرداروں کو بے نقاب کرنے میں سوشل میڈیا اور سفارتی حلقوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس واقعے کے مبینہ کرداروں کی نشاندہی کے بعد معاذ ملک جیسے نام کا منظرِ عام پر آنا انتہائی تشویشناک ہے، جو مبینہ طور پر پی ٹی آئی یوکے یوتھ ونگ کا ڈپٹی سیکرٹری یوتھ ہے۔
پی ٹی آئی کے مرکزی رہنما اظہر مشوانی کے ساتھ معاذ ملک کا نام مولانا طاہر اشرفی کو سرِعام ہراساں کرنے، دھونس جمانے اور لندن کا ماحول خراب کرنے میں سامنے آنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بیرونِ ملک احتجاج کے نام پر ایک خطرناک اور متشدد کلچر پروان چڑھایا جا رہا ہے۔
اب یہ معاملہ صرف ایک حملے تک محدود نہیں رہا بلکہ برطانیہ میں پی ٹی آئی کے احتجاج، سوشل میڈیا مہمات اور سیاسی سرگرمیوں کے پردے میں مبینہ مالی، اخلاقی اور سماجی استحصال کے سنگین الزامات سامنے آ رہے ہیں۔ ایک مبینہ آڈیو میں یہ سنسنی خیز دعویٰ کیا گیا ہے کہ معاذ ملک سیاسی اثر و رسوخ کا ناجائز استعمال کر کے معصوم لوگوں سے پیسے بٹورتا رہا ہے۔ الزامات کے مطابق، روزگار دلوانے کے نام پر برطانیہ پہنچنے والے مجبور پاکستانیوں سے ہزاروں پاؤنڈز ہڑپ کیے گئے، جبکہ پاکستان مخالف احتجاجی سیاست کو محض اپنے ذاتی برطانوی اسائلم (سیاسی پناہ) کیس کو مضبوط کرنے کے لیے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔
مزید برآں، کمزور اور سادہ لوح افراد کو لالچ دے کر بھاری مالی نقصان پہنچایا گیا، جبکہ سکھ مالکانِ مکان نے بھی معاذ ملک کے خلاف ہزاروں پاؤنڈز کرائے کی مد میں عدم ادائیگی پر برطانوی عدالتوں میں باقاعدہ قانونی چارہ جوئی شروع کر دی ہے۔ کمیونٹی حلقوں کا کہنا ہے کہ ایسے عناصر کو کسی صورت برطانوی سرزمیں پر اسائلم نہیں ملنی چاہیے جو اپنے ذاتی مفادات کے لیے بیرونِ ملک وطنِ عزیز کی آن اور ساکھ کو داغدار کر رہے ہیں۔
اگر یہ تمام الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ صرف سیاسی بدعنوانی یا اخلاقی پستی نہیں، بلکہ برطانوی قانون کے تحت سنگین مجرمانہ جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔ اس پورے اسکینڈل کا سب سے شرمناک اور گھناؤنا پہلو معاذ ملک کے خلاف خواتین کے مبینہ اخلاقی استحصال، بلیک میلنگ اور انہیں سیاسی سرگرمیوں کے نام پر اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے الزامات ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر سیاسی جماعت کے لبادے میں کچھ عناصر بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں، خواتین، بے روزگار نوجوانوں اور کمزور تارکینِ وطن کو اپنے ذاتی و مالی مفادات کے لیے بلیک میل کر رہے ہیں، تو پھر یہ سیاست نہیں بلکہ ایک منظم مافیا نیٹ ورک ہے۔
اس تشویشناک صورتحال پر پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت کو اب خاموشی توڑنی ہوگی اور واضح جواب دینا ہوگا کہ کیا وہ ایسے جرائم پیشہ عناصر سے فوری اور اعلانیہ لاتعلقی کا اظہار کرے گی یا انہیں اپنا سیاسی اثاثہ سمجھ کر بچانے کی کوشش کرے گی؟ برطانوی سیکیورٹی اداروں، پاکستانی کمیونٹی اور عالمی صحافتی حلقوں کی جانب سے اب اس پورے معاملے کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
عوامی حلقوں کا موقف ہے کہ سیاسی اختلاف ہر کسی کا آئینی حق ہے، لیکن اس کی آڑ میں جسمانی حملے، ہراسگی، مالی فراڈ، بلیک میلنگ اور خواتین کے استحصال جیسے سنگین جرائم کو کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اگر پی ٹی آئی یوکے کے بعض عناصر واقعی اس گندے کھیل میں ملوث ہیں تو انہیں سیاسی کارکن نہیں، بلکہ قانون کے کٹہرے میں کھڑے ملزمان سمجھا جانا چاہیے اور ان کے خلاف برطانوی قوانین کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جانی چاہیے۔