لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا متنازع مطالبہ، امیر مقام کا بڑا انکشاف

وفاقی وزیر امیر مقام نے انکشاف کیا ہے کہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے انتخابی حلف نامے سے پاکستان سے وفاداری کی شق ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے، جس پر اب سخت ریاستی اقدامات ناگزیر دکھائی دیتے ہیں۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا متنازع مطالبہ، امیر مقام کا بڑا انکشاف

جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا حلف نامے سے وفاداری کی شق ہٹانے کا مطالبہ؛ امیر مقام کا انکشاف، سخت ریاستی کارروائی کا امکان۔

July 31, 2026

وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے انکشاف کیا ہے کہ 10 مئی کو جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہونے والے آخری اجلاس میں کمیٹی نے 38 مطالبات کے ساتھ 8 اضافی مطالبات بھی پیش کیے۔ ان میں سے ایک مطالبہ یہ تھا کہ انتخابی حلف نامے سے پاکستان سے وفاداری کی شق کو حذف کیا جائے۔

وفاقی وزیر کے اس انکشاف کے بعد سیاسی اور انتظامی حلقوں میں شدید تشویش پیدا ہو گئی ہے۔ آئین میں درج پاکستان سے وفاداری کی بنیاد کو ختم کرنے کا یہ مطالبہ قومی سلامتی، ریاست کے ساتھ وابستگی اور نظریاتی بنیادوں پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔

اکابرین سے انحراف

تاریخ شاہد ہے کہ خطے کے جن اکابرین، اسلاف اور رہنماؤں نے عوام کی قیادت کی، انہوں نے اپنی تمام تر جدوجہد میں ہم پاکستان ہیں اور پاکستان ہمارا ہے کی صداؤں کو اپنا شعار بنایا۔ انہوں نے نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کی خاطر جانوں کے نذرانے پیش کیے اور ریاست سے اٹوٹ وابستگی کا ثبوت دیا۔

اس کے برعکس، خود کو انہی اکابرین کے وارث اور حقوق کے علمدار قرار دینے والے موجودہ عناصر کا یہ متنازع مطالبہ ان کے اسلاف کی قربانیوں کی نفی کے مترادف ہے۔ عوامی یا سیاسی مسائل کے حل کے لیے ریاست پاکستان کی وفاداری کے اقرار کو ختم کرنے کی شرط کسی طور قابلِ قبول نہیں۔

ریاستی سطح پر اقدامات ناگزیر

قانونی ماہرین کے مطابق انتخابی حلف نامے سے وفاداری کا عنصر الگ کرنے کی کوشش حقوق کی ترجمانی نہیں بلکہ نظریاتی انحراف ہے۔

ایسی صورتحال میں جہاں آئینی فریم ورک اور قومی سلامتی کو چیلنج کیا جا رہا ہو، محض بیانات کے بجائے ریاستی سطح پر سخت عملی اور قانونی اقدامات ناگزیر ہوتے جا رہے ہیں۔ ریاست کے لیے ضروری ہے کہ وہ آئینی حدود اور قومی وفاداری کے اصولوں پر بغیر کسی سمجھوتے کے واضح اور یکسو حکمتِ عملی اپنائے۔

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *