وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام نے انکشاف کیا ہے کہ 10 مئی کو جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ ہونے والے آخری اجلاس میں کمیٹی نے 38 مطالبات کے ساتھ 8 اضافی مطالبات بھی پیش کیے۔ ان میں سے ایک مطالبہ یہ تھا کہ انتخابی حلف نامے سے پاکستان سے وفاداری کی شق کو حذف کیا جائے۔
وفاقی وزیر کے اس انکشاف کے بعد سیاسی اور انتظامی حلقوں میں شدید تشویش پیدا ہو گئی ہے۔ آئین میں درج پاکستان سے وفاداری کی بنیاد کو ختم کرنے کا یہ مطالبہ قومی سلامتی، ریاست کے ساتھ وابستگی اور نظریاتی بنیادوں پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔
اکابرین سے انحراف
تاریخ شاہد ہے کہ خطے کے جن اکابرین، اسلاف اور رہنماؤں نے عوام کی قیادت کی، انہوں نے اپنی تمام تر جدوجہد میں ہم پاکستان ہیں اور پاکستان ہمارا ہے کی صداؤں کو اپنا شعار بنایا۔ انہوں نے نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کی خاطر جانوں کے نذرانے پیش کیے اور ریاست سے اٹوٹ وابستگی کا ثبوت دیا۔
جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ساتھ 10 مئی کو ہونے والی آخری ملاقات میں کمیٹی نے 38 مطالبات کے علاوہ مزید 8 مطالبات پیش کیے جن میں ایک مطالبہ یہ بھی تھا کہ انتخابی حلف نامے سے پاکستان سے وفاداری کی شق نکالی جائے، وفاقی وزیر انجینئر امیر مقام pic.twitter.com/U0H44tvliC
— Ammar Masood (@ammarmasood3) July 30, 2026
اس کے برعکس، خود کو انہی اکابرین کے وارث اور حقوق کے علمدار قرار دینے والے موجودہ عناصر کا یہ متنازع مطالبہ ان کے اسلاف کی قربانیوں کی نفی کے مترادف ہے۔ عوامی یا سیاسی مسائل کے حل کے لیے ریاست پاکستان کی وفاداری کے اقرار کو ختم کرنے کی شرط کسی طور قابلِ قبول نہیں۔
ریاستی سطح پر اقدامات ناگزیر
قانونی ماہرین کے مطابق انتخابی حلف نامے سے وفاداری کا عنصر الگ کرنے کی کوشش حقوق کی ترجمانی نہیں بلکہ نظریاتی انحراف ہے۔
ایسی صورتحال میں جہاں آئینی فریم ورک اور قومی سلامتی کو چیلنج کیا جا رہا ہو، محض بیانات کے بجائے ریاستی سطح پر سخت عملی اور قانونی اقدامات ناگزیر ہوتے جا رہے ہیں۔ ریاست کے لیے ضروری ہے کہ وہ آئینی حدود اور قومی وفاداری کے اصولوں پر بغیر کسی سمجھوتے کے واضح اور یکسو حکمتِ عملی اپنائے۔