بائیس اکتوبر 1947: کاٹھیاواڑ کی ریاست ماناودر پر بھارتی فوج داخل ہوئی، نواب غلام معین الدین خان جی کے پاکستان سے الحاق کے فیصلے کے باوجود ریاست بھارت کے زیرِ انتظام آگئی۔
تقسیمِ ہند کے بعد برصغیر کی کئی نوابی ریاستوں کے مستقبل کا فیصلہ الحاق کے معاملے پر ہوا، تاہم ریاست ماناودر کی تاریخ ایک ایسے تنازعے کی یاد دلاتی ہے جس میں پاکستان کے ساتھ الحاق کے اعلان کے باوجود ریاست اپنا الگ تشخص برقرار نہ رکھ سکی۔ 22 اکتوبر 1947 کو بھارتی فوجی دستے ماناودر میں داخل ہوئے اور ریاست پر بھارت کا کنٹرول قائم ہوگیا۔
ریاست ماناودر کے آخری حکمران نواب غلام معین الدین خان جی نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا تھا، تاہم اس فیصلے کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ 22 اکتوبر 1947 کی صبح بھارتی فوجی قافلے ریاست میں داخل ہوئے اور اسی روز دوپہر تک ماناودر بھارتی انتظام کے تحت آچکی تھی۔
ماناودر ریاست کیسے قائم ہوئی؟
ماناودر ریاست کا تعلق جزیرہ نما کاٹھیاواڑ، موجودہ بھارتی ریاست گجرات، کی تاریخی نوابی ریاستوں سے تھا۔ مغل سلطنت کے زوال کے دور میں جونا گڑھ کے بابی خاندان نے خطے میں اپنی سیاسی اور حکومتی حیثیت مستحکم کی۔ تاریخی پس منظر کے مطابق، جونا گڑھ کے نواب محمد بہادر خان جی اول نے 1733 میں اپنے چھوٹے بھائی دلیر خان جی بابی کو بانٹوا کا علاقہ عطا کیا، جس کے نتیجے میں بانٹوا ماناودر ریاست وجود میں آئی۔
یہ ریاست اپنے مخصوص حکومتی نظام اور نوابی خاندان کے باعث خطے کی تاریخی شناخت کا حصہ رہی۔ قیامِ پاکستان کے بعد جب برصغیر کی ریاستوں کے الحاق کا معاملہ سامنے آیا تو ماناودر کے حکمران نے پاکستان سے وابستگی کا فیصلہ کیا، لیکن ریاست کا مستقبل اس اعلان کے مطابق آگے نہ بڑھ سکا۔
نواب غلام معین الدین خان جی کی پاکستان آمد
ریاست کے آخری حکمران نواب غلام معین الدین خان جی اور ان کے اہلخانہ بعد ازاں پاکستان منتقل ہوگئے۔ نواب اپنے خاندان کے ہمراہ 1951 میں پاکستان پہنچے تھے۔ ان کی بیٹی فاطمہ خیر نے کینیڈا سے گفتگو کرتے ہوئے ریاست ماناودر اور اپنے خاندان کی تاریخ سے متعلق تفصیلات بیان کیں۔
ماناودر کا واقعہ تقسیمِ ہند کے بعد ریاستوں کے الحاق، علاقائی اختیار اور سیاسی فیصلوں سے جڑے ان تاریخی ابواب میں شامل ہے جن کے اثرات آج بھی محسوس کیے جاتے ہیں۔ 22 اکتوبر 1947 کا دن اس ریاست کی تاریخ میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے، جب پاکستان سے الحاق کے اعلان کے باوجود ماناودر کا انتظامی مستقبل تبدیل ہوگیا۔





