امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے حالیہ دورہ بھارت کے اختتام پر بھارتی حکومت اور سفارتی عملے کے رویے کو سفارتی آداب سے مکمل انحراف قرار دیا جا رہا ہے۔ ایک عالمی طاقت کے اہم ترین سرکاری مہمان کی رخصت کے موقع پر بھارتی پروٹوکول اور سفارتی سنجیدگی کا جنازہ نکل گیا، جس نے نئی دہلی کے انتظامی معیار پر کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
حکام کی موجودگی؟
ذرائع کے مطابق امریکی وزیرِ خارجہ کی روانگی کے موقع پر ایئرپورٹ پر نہ تو بھارتی حکومت کا کوئی سینئر ریاستی وزیر موجود تھا اور نہ ہی کسی اعلیٰ سطحی بیوروکریٹ کی موجودگی دیکھی گئی۔ بین الاقوامی سفارتی روایات اور پروٹوکول کے مطابق یہ ایک انتہائی غیر معمولی اور چونکا دینے والا نکتہ ہے، جس سے بھارتی سفارتی انتظامات کی سنگین کمزوریاں اور غیر پیشہ ورانہ طرزِ عمل کھل کر سامنے آیا ہے۔
مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ سپر پاور امریکہ کے وزیرِ خارجہ کو ایئرپورٹ پر رخصت کرنے کے لیے بھارتی سرکار کی جانب سے صرف ایک ڈپٹی ایس پی اور ایک انسپکٹر کو بھیجا گیا تھا۔ بعض حلقوں اور سفارتی ماہرین نے اس انتظام کو انتہائی غیر روایتی، غیر معمولی اور شرمندہ کن قرار دیا ہے، جو کسی بھی طور پر دوطرفہ سفارتی تعلقات اور اعلیٰ ترین سطح کے دوروں کے شایانِ شان نہیں ہے۔
بھارتی میڈیا کا کردار
اس سنگین سفارتی غفلت پر بھارتی میڈیا کے ایک حصے کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارتی میڈیا اس اتنے بڑے سفارتی بلنڈر پر اپنے ملک کے اندر جوابدہی اور داخلی احتساب کا مطالبہ کرنے کے بجائے، جان بوجھ کر دیگر علاقائی سوالات پر زیادہ توجہ دیتا رہا تاکہ اس بڑی خفت کو چھپایا جا سکے۔
سوالیہ نشان
ناقدین کے مطابق، ایک طرف بھارت خود کو عالمی طاقت کے طور پر پیش کرنے کے دعوے کرتا ہے، لیکن دوسری طرف اس نوعیت کے ناقص اور غیر سنجیدہ سفارتی انتظامات اس کے دعووں کی نفی کرتے ہیں۔ اس واقعے کے بعد بین الاقوامی برادری میں بھارت کی ادارہ جاتی تیاری، سفارتی پختگی اور پروٹوکول کے طے شدہ معیارات پر ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔