"> مارکو روبیو کی بھارت سے روانگی پر سفارتی پروٹوکول کی سنگین خلاف ورزی
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

مارکو روبیو کی بھارت سے روانگی: سفارتی پروٹوکول کی سنگین خلاف ورزی پر نئی دہلی کو تنقید کا سامنا

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے دورہ بھارت کے اختتام پر سفارتی آداب اور پروٹوکول سے متعلق شدید عالمی اور داخلی تنقید سامنے آئی ہے، جہاں بھارتی حکومت کی غیر سنجیدگی نے سفارتی روایات کو پامال کر دیا۔
مارکو روبیو کی بھارت سے روانگی

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے دورہ بھارت کے اختتام پر سفارتی آداب اور پروٹوکول سے متعلق شدید عالمی اور داخلی تنقید سامنے آئی ہے، جہاں بھارتی حکومت کی غیر سنجیدگی نے سفارتی روایات کو پامال کر دیا۔

May 28, 2026

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو کے حالیہ دورہ بھارت کے اختتام پر بھارتی حکومت اور سفارتی عملے کے رویے کو سفارتی آداب سے مکمل انحراف قرار دیا جا رہا ہے۔ ایک عالمی طاقت کے اہم ترین سرکاری مہمان کی رخصت کے موقع پر بھارتی پروٹوکول اور سفارتی سنجیدگی کا جنازہ نکل گیا، جس نے نئی دہلی کے انتظامی معیار پر کئی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

حکام کی موجودگی؟

ذرائع کے مطابق امریکی وزیرِ خارجہ کی روانگی کے موقع پر ایئرپورٹ پر نہ تو بھارتی حکومت کا کوئی سینئر ریاستی وزیر موجود تھا اور نہ ہی کسی اعلیٰ سطحی بیوروکریٹ کی موجودگی دیکھی گئی۔ بین الاقوامی سفارتی روایات اور پروٹوکول کے مطابق یہ ایک انتہائی غیر معمولی اور چونکا دینے والا نکتہ ہے، جس سے بھارتی سفارتی انتظامات کی سنگین کمزوریاں اور غیر پیشہ ورانہ طرزِ عمل کھل کر سامنے آیا ہے۔

مزید دعویٰ کیا گیا ہے کہ سپر پاور امریکہ کے وزیرِ خارجہ کو ایئرپورٹ پر رخصت کرنے کے لیے بھارتی سرکار کی جانب سے صرف ایک ڈپٹی ایس پی اور ایک انسپکٹر کو بھیجا گیا تھا۔ بعض حلقوں اور سفارتی ماہرین نے اس انتظام کو انتہائی غیر روایتی، غیر معمولی اور شرمندہ کن قرار دیا ہے، جو کسی بھی طور پر دوطرفہ سفارتی تعلقات اور اعلیٰ ترین سطح کے دوروں کے شایانِ شان نہیں ہے۔

بھارتی میڈیا کا کردار

اس سنگین سفارتی غفلت پر بھارتی میڈیا کے ایک حصے کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارتی میڈیا اس اتنے بڑے سفارتی بلنڈر پر اپنے ملک کے اندر جوابدہی اور داخلی احتساب کا مطالبہ کرنے کے بجائے، جان بوجھ کر دیگر علاقائی سوالات پر زیادہ توجہ دیتا رہا تاکہ اس بڑی خفت کو چھپایا جا سکے۔

سوالیہ نشان

ناقدین کے مطابق، ایک طرف بھارت خود کو عالمی طاقت کے طور پر پیش کرنے کے دعوے کرتا ہے، لیکن دوسری طرف اس نوعیت کے ناقص اور غیر سنجیدہ سفارتی انتظامات اس کے دعووں کی نفی کرتے ہیں۔ اس واقعے کے بعد بین الاقوامی برادری میں بھارت کی ادارہ جاتی تیاری، سفارتی پختگی اور پروٹوکول کے طے شدہ معیارات پر ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *