ماسکو میں افغانستان کے معاملے پر ماسکو فارمیٹ کا آٹھواں مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں پاکستان کے نمائندہ خصوصی برائے افغانستان نے شرکت کی۔
پاکستانی نمائندہ خصوصی نے خطے کی موجودہ صورتحال کو انتہائی پیچیدہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ دنیا اس وقت ایک سنگین دور سے گزر رہی ہے۔ بین الاقوامی بحرانوں نے توانائی کی ترسیل اور علاقائی معیشت کو بھی متاثر کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ خطے کو اسمگلنگ اور غیر قانونی نقل مکانی سمیت متعدد چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم دہشت گردی علاقائی سلامتی کے لیے بدستور سب سے بڑا خطرہ ہے۔
پاکستان کا مؤقف
پاکستانی مندوب نے کہا کہ افغانستان میں سیاسی تبدیلی کو پانچ برس مکمل ہو چکے ہیں اور یہ وقت زمینی حقائق کا غیر جانبدارانہ جائزہ لینے کے لیے اہم ہے۔
ان کے مطابق پاکستان نے ہمیشہ ایک پرامن، مستحکم اور خوشحال افغانستان کی حمایت کی ہے۔ اگست 2021 کے بعد بھی پاکستان نے افغان عوام کی مدد کے لیے متعدد اقدامات کیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے خطرے سے دوچار افغان شہریوں کو ویزے جاری کیے اور دوطرفہ تجارت و ٹرانزٹ کے شعبوں میں سہولیات فراہم کیں۔
پاکستانی نمائندہ خصوصی کے مطابق پاکستان نے خطے میں رابطوں کے بڑے منصوبوں پر بھی پیش رفت کی تاکہ افغانستان کو عالمی برادری کے قریب لانے اور اس کی معیشت کو سہارا دینے میں مدد مل سکے۔
وعدوں پر عملدرآمد کا سوال
پاکستانی مندوب نے افغانستان کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک اب بھی سنگین انسانی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔
ان کے مطابق غذائی قلت، موسمیاتی مسائل اور پانی کے بحران نے افغان شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کے جائز تحفظات پر بھی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی۔
نمائندہ خصوصی نے جامع حکومت کے قیام میں پیش رفت نہ ہونے اور خواتین و لڑکیوں کی تعلیم پر پابندیوں کو بھی اہم مسائل قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ انسدادِ دہشت گردی کے وعدوں سے انحراف نے افغانستان کی ترقی اور خطے کے امن کو متاثر کیا ہے۔
افغان سرزمین اور دہشت گردی
پاکستانی نمائندہ خصوصی نے دہشت گردی کو خطے کے لیے بنیادی چیلنج قرار دیا۔ ان کے مطابق طالبان حکومت اور شدت پسند گروہوں کے درمیان مبینہ گٹھ جوڑ نے سکیورٹی صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان، بی ایل اے اور داعش خراسان افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں، جبکہ بیرونی عناصر بھی ان گروہوں کو پاکستان کے خلاف استعمال کر رہے ہیں۔
پاکستانی مندوب نے بتایا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران افغان سرزمین سے ہونے والے حملوں میں 4 ہزار 700 سے زائد پاکستانی شہری شہید ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کوئی بھی خود مختار ریاست اپنے شہریوں کے قتل پر خاموش نہیں رہ سکتی۔ ان کے مطابق افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف مبینہ منظم منصوبہ بندی نے صورتحال کو انتہائی سنگین بنا دیا ہے۔
دفاعی کارروائیوں پر مؤقف
پاکستانی نمائندہ خصوصی نے کہا کہ پاکستان کی تمام کارروائیاں دفاعی نوعیت کی ہیں اور افغان سرزمین سے ہونے والے حملوں کے ردعمل میں کی جاتی ہیں۔
ان کے مطابق پاکستان کی جوابی کارروائیاں اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق ہیں اور ملک کو اپنے شہریوں کے تحفظ اور قومی سلامتی کے دفاع کا قانونی حق حاصل ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان صرف دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور تربیتی مراکز کو نشانہ بناتا ہے۔ ان کے مطابق خطے کے وسیع تر مفاد میں پاکستان نے اب تک غیر معمولی تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔
پاکستانی مندوب نے ماسکو فارمیٹ کے شرکا پر زور دیا کہ افغانستان سے متعلق علاقائی چیلنجز، خصوصاً دہشت گردی، کو سنجیدگی سے حل کرنے کے لیے مؤثر اور مشترکہ کوششیں کی جائیں۔
دیکھیے: افغانستان سے عسکریت پسندی کا خطرہ، تھنک ٹینک کی اہم رپورٹ جاری