جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی رہنما مفتی کفایت اللہ ایک بار پھر عوامی اور صحافتی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کی زد میں آ گئے ہیں۔
یہ تنقید ان کی جانب سے پاک فوج اور قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف حالیہ تضحیک آمیز بیان بازی کے بعد سامنے آئی ہے۔ سوشل میڈیا پر مبصرین اور صارفین نے مفتی کفایت اللہ کے اس رویے کو انتہائی غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔
وائرل ہونے والے پیغامات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مفتی کفایت اللہ فورتھ شیڈول کا حصہ رہے ہیں۔ اسی طرح ان کی ریاست مخالف عناصر، بشمول منظور پشتین، سے ملاقاتیں ریکارڈ پر ہیں۔
سکیورٹی ماہرین کا مؤقف ہے کہ مفتی کفایت اللہ جیسے افراد سستی شہرت حاصل کرنے کی خاطر قومی اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
قومی سلامتی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ریاستی اداروں اور عسکری قیادت کے خلاف منظم مہم چلانا قانوناً جرم کے زمرے میں آتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ماضی میں بھی مفتی کفایت اللہ کے متنازع بیانات کے باعث ان کے میڈیا پر آنے پر پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں۔
واضح رہے کہ مفتی کفایت اللہ ماضی میں بھی فوج مخالف بیانات کی بنیاد پر مختلف مواقع پر گرفتار اور زیرِ حراست رہ چکے ہیں۔
ان کے خلاف مختلف اوقات میں مقامی انتظامیہ کی جانب سے امن و امان کو لاحق خطرات کے پیشِ نظر کارروائیاں بھی کی جاتی رہی ہیں۔
ناقدین کا کہنا ہےکہ ایسے رہنما سیاسی مفادات کی خاطر ملکی وقار کو داؤ پر لگانے سے گریز نہیں کرتے، جو کہ جماعت کی ساکھ کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔