"> ریاستی اداروں کے خلاف بیانات؛ مفتی کفایت اللہ پر شدید تنقید
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

ریاستی اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی؛ جے یو آئی رہنما مفتی کفایت اللہ شدید تنقید کی زد میں

جے یو آئی کے رہنما مفتی کفایت اللہ کی جانب سے پاک فوج کے خلاف حالیہ بیان بازی پر عوامی حلقوں نے سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی متنازع سرگرمیوں کو ہدفِ تنقید بنایا ہے۔
شہدا کے خلاف ہرزہ سرائی؛ جے یو آئی رہنما مفتی کفایت اللہ شدید تنقید کی زد میں

پاک فوج کے خلاف ہرزہ سرائی پر جے یو آئی رہنما مفتی کفایت اللہ شدید تنقید کی زد میں آ گئے۔ فورتھ شیڈول اور متنازع ملاقاتوں کے تناظر میں ان کے میڈیا بیانات پر پابندی کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔

July 17, 2026

جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی رہنما مفتی کفایت اللہ ایک بار پھر عوامی اور صحافتی حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کی زد میں آ گئے ہیں۔

یہ تنقید ان کی جانب سے پاک فوج اور قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف حالیہ تضحیک آمیز بیان بازی کے بعد سامنے آئی ہے۔ سوشل میڈیا پر مبصرین اور صارفین نے مفتی کفایت اللہ کے اس رویے کو انتہائی غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔

وائرل ہونے والے پیغامات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مفتی کفایت اللہ فورتھ شیڈول کا حصہ رہے ہیں۔ اسی طرح ان کی ریاست مخالف عناصر، بشمول منظور پشتین، سے ملاقاتیں ریکارڈ پر ہیں۔

سکیورٹی ماہرین کا مؤقف ہے کہ مفتی کفایت اللہ جیسے افراد سستی شہرت حاصل کرنے کی خاطر قومی اداروں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

قومی سلامتی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ریاستی اداروں اور عسکری قیادت کے خلاف منظم مہم چلانا قانوناً جرم کے زمرے میں آتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ماضی میں بھی مفتی کفایت اللہ کے متنازع بیانات کے باعث ان کے میڈیا پر آنے پر پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں۔

واضح رہے کہ مفتی کفایت اللہ ماضی میں بھی فوج مخالف بیانات کی بنیاد پر مختلف مواقع پر گرفتار اور زیرِ حراست رہ چکے ہیں۔

ان کے خلاف مختلف اوقات میں مقامی انتظامیہ کی جانب سے امن و امان کو لاحق خطرات کے پیشِ نظر کارروائیاں بھی کی جاتی رہی ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہےکہ ایسے رہنما سیاسی مفادات کی خاطر ملکی وقار کو داؤ پر لگانے سے گریز نہیں کرتے، جو کہ جماعت کی ساکھ کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *