سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان اہم ٹیلیفونک رابطہ ہوا ہے، جس میں مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتحال اور ایران پر متوقع امریکی حملوں کے معاملے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی ولی عہد نے ایران پر امریکہ کی جانب سے بڑے پیمانے پر حملے کرنے کے منصوبے پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے امریکی صدر سے خطے میں جاری کشیدگی میں کمی لانے اور تہران پر ممکنہ فوجی کارروائی سے گریز کرنے کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ فوری سمجھوتہ نہ ہونے کا اشارہ دیا ہے، تاہم ان کے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف صورتحال پر قابو پانے کے لیے متحرک ہیں۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ قطر، متحدہ عرب امارات، ترکیہ اور پاکستان بھی امریکہ پر سفارتی زور دے رہے ہیں کہ خطے کو بڑے تصادم سے بچانے کے لیے کشیدگی کم کی جائے۔
دریں اثناء، قطری ثالثوں نے ایرانی وزیرِ خارجہ، امریکی نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف اور عمانی حکام سے روابط قائم کیے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک امریکی ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ تجارتی و بحری نقل و حمل کے لیے اہم ترین راستے آبنائے ہرمز کو کھلا رکھنے سے متعلق معاہدے کی کوششوں میں پیشرفت حاصل ہوئی ہے۔