"> حکومت مذاکرات کے لیے تیار، پی ٹی آئی کو زبردستی مجبور نہیں کیا جا سکتا: مصدق ملک - HTN Urdu

حکومت مذاکرات کے لیے تیار، پی ٹی آئی کو زبردستی مجبور نہیں کیا جا سکتا: مصدق ملک

وفاقی وزیر مصدق ملک نے پی ٹی آئی کی احتجاجی سیاست پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن بات چیت کے لیے دونوں فریقوں کی آمادگی ضروری ہے۔
پی ٹی آئی کو زبردستی مجبور نہیں کیا جا سکتا: مصدق ملک

مصدق ملک نے کہا ہے کہ حکومت سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے مذاکرات پر تیار ہے، تاہم تحریک انصاف کو زبردستی بات چیت یا معاہدے پر دستخط کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔

October 22, 2026

وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک نے کہا ہے کہ حکومت ملک میں سیاسی کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم تحریک انصاف اگر بات چیت اور معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے آمادہ نہیں تو اسے زبردستی مذاکرات پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔

نجی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی تقسیم میں کمی لانے کے لیے حکومت نے سنجیدہ کوششیں کیں، لیکن ان کے بقول ایک سیاسی جماعت مسلسل احتجاج اور محاذ آرائی کی سیاست جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2013 سے اب تک سیاسی احتجاج اور اشتعال انگیزی کا سلسلہ مختلف صورتوں میں سامنے آتا رہا ہے، جس سے سیاسی ماحول مزید تقسیم ہوا۔

وفاقی وزیر نے تحریک انصاف کی احتجاجی سیاست پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہر چند ماہ بعد وفاقی دارالحکومت پر حملے کی بات کرنا قابل قبول نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج سیاسی حق ہے، تاہم اگر کسی صوبے کی حکومت ہی وفاقی دارالحکومت پر حملے کی بات کرے تو یہ تشویش ناک صورتحال ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب سرحدوں پر کشیدگی اور دہشتگردی کے واقعات میں سکیورٹی اہلکاروں کی شہادتیں ہو رہی ہیں۔

مصدق ملک نے دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں اور طالبان سے مذاکرات کے معاملے پر بھی تحریک انصاف کے مؤقف پر سوالات اٹھائے۔ ان کے مطابق اگر دہشتگردوں کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن کی مخالفت کی جاتی ہے تو اس کے متبادل کی وضاحت بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں سے مذاکرات کی حمایت کرنے والوں کو بتانا چاہیے کہ وہ کن شرائط پر بات چیت چاہتے ہیں اور ملک کے تعلیمی، ثقافتی اور سیاسی نظام پر کس حد تک سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔

وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کے درمیان ملاقات سے متعلق سوال پر وفاقی وزیر نے کہا کہ جمہوری نظام کے تسلسل کے لیے مذاکرات ضروری ہیں، لیکن اگر اپوزیشن لیڈر وزیراعظم ہاؤس آنے کے لیے تیار نہیں تو بات چیت کیسے آگے بڑھے گی؟ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کی گئی اور حکومتی وفد رات گئے تک بات چیت میں شریک رہا، جبکہ ایک مسودے پر اتفاق بھی ہوا تھا۔ تاہم، اگر دوسری جانب دستخط کرنے پر آمادہ نہیں تو حکومت زبردستی معاہدہ نہیں کروا سکتی۔

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے سیاسی مؤقف پر بات کرتے ہوئے مصدق ملک نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان دیرینہ سیاسی تعلقات ہیں۔ اگر وہ کسی معاملے پر ناراض ہیں تو انہیں منانے، ان سے بات چیت کرنے اور ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔

اسموگ کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت آلودگی پر قابو پانے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے، جن میں اسموگ گنز کا استعمال بھی شامل

متعلقہ مضامین

عالمی دہشت گردی انڈیکس 2026 میں سرحد پار دہشت گردی کی سنگین صورت حال، پاک افغان بارڈر کے سکیورٹی چیلنجز اور علاقائی معاشی منصوبوں کو لاحق خطرات کا تفصیلی جائزہ۔

October 22, 2026

خیبر پختونخوا میں امن و امان کی بحالی اور انسدادِ دہشت گردی کے لیے ایپکس کمیٹی کا اہم اجلاس، پولیس و سی ٹی ڈی کو جدید آلات کی فراہمی اور پسماندہ علاقوں کی ترقی پر اتفاق۔

October 22, 2026

ملتان میں 15 سالہ یتیم لڑکے کی ہلاکت کے مقدمے میں گرفتار ملزم توقیر نذیر کی سی سی ڈی بہاولپور منتقلی پر افسران کے مؤقف اور قانونی اختیار کی تفصیلات سامنے آگئیں۔

October 22, 2026

پاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا نے دفاعی پیداوار اور ٹیکنالوجی کی منتقلی کے لیے بدر مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے ہیں۔

October 22, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *