وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک نے کہا ہے کہ حکومت ملک میں سیاسی کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم تحریک انصاف اگر بات چیت اور معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے آمادہ نہیں تو اسے زبردستی مذاکرات پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔
نجی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے مصدق ملک نے کہا کہ پاکستان میں سیاسی تقسیم میں کمی لانے کے لیے حکومت نے سنجیدہ کوششیں کیں، لیکن ان کے بقول ایک سیاسی جماعت مسلسل احتجاج اور محاذ آرائی کی سیاست جاری رکھے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2013 سے اب تک سیاسی احتجاج اور اشتعال انگیزی کا سلسلہ مختلف صورتوں میں سامنے آتا رہا ہے، جس سے سیاسی ماحول مزید تقسیم ہوا۔
وفاقی وزیر نے تحریک انصاف کی احتجاجی سیاست پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہر چند ماہ بعد وفاقی دارالحکومت پر حملے کی بات کرنا قابل قبول نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ احتجاج سیاسی حق ہے، تاہم اگر کسی صوبے کی حکومت ہی وفاقی دارالحکومت پر حملے کی بات کرے تو یہ تشویش ناک صورتحال ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب سرحدوں پر کشیدگی اور دہشتگردی کے واقعات میں سکیورٹی اہلکاروں کی شہادتیں ہو رہی ہیں۔
مصدق ملک نے دہشتگردی کے خلاف کارروائیوں اور طالبان سے مذاکرات کے معاملے پر بھی تحریک انصاف کے مؤقف پر سوالات اٹھائے۔ ان کے مطابق اگر دہشتگردوں کے خلاف انٹیلی جنس بنیادوں پر آپریشن کی مخالفت کی جاتی ہے تو اس کے متبادل کی وضاحت بھی ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں سے مذاکرات کی حمایت کرنے والوں کو بتانا چاہیے کہ وہ کن شرائط پر بات چیت چاہتے ہیں اور ملک کے تعلیمی، ثقافتی اور سیاسی نظام پر کس حد تک سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔
وزیراعظم اور قائد حزب اختلاف کے درمیان ملاقات سے متعلق سوال پر وفاقی وزیر نے کہا کہ جمہوری نظام کے تسلسل کے لیے مذاکرات ضروری ہیں، لیکن اگر اپوزیشن لیڈر وزیراعظم ہاؤس آنے کے لیے تیار نہیں تو بات چیت کیسے آگے بڑھے گی؟ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش کی گئی اور حکومتی وفد رات گئے تک بات چیت میں شریک رہا، جبکہ ایک مسودے پر اتفاق بھی ہوا تھا۔ تاہم، اگر دوسری جانب دستخط کرنے پر آمادہ نہیں تو حکومت زبردستی معاہدہ نہیں کروا سکتی۔
جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے سیاسی مؤقف پر بات کرتے ہوئے مصدق ملک نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) اور مولانا فضل الرحمان کے درمیان دیرینہ سیاسی تعلقات ہیں۔ اگر وہ کسی معاملے پر ناراض ہیں تو انہیں منانے، ان سے بات چیت کرنے اور ساتھ لے کر چلنے کی کوشش کی جانی چاہیے۔
اسموگ کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ پنجاب حکومت آلودگی پر قابو پانے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے، جن میں اسموگ گنز کا استعمال بھی شامل





