بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی بین الاقوامی سطح پر اعزازات، تمغے اور ٹرافیاں سمیٹنے کی غیر معمولی اور کبھی نہ ختم ہونے والی خواہش ایک بار پھر عالمی منظر نامے پر بحث کا موضوع بن گئی ہے۔ حالیہ دعوؤں کے مطابق نریندر مودی نے اپنے سفارتی کیریئر کے مجموعے میں ایک اور اعزاز کا اضافہ کر لیا ہے، اور اس بار یہ تمغہ انڈونیشیا کی جانب سے ان کی نذر کیا گیا ہے۔
عالمی سیاسی حلقوں اور مبصرین کی جانب سے اس پیش رفت پر گہرا طنز کیا جا رہا ہے، جہاں یہ تاثر اب ایک مسلمہ حقیقت کی شکل اختیار کر چکا ہے کہ مودی دنیا کے جس خطے یا ملک کا بھی رخ کرتے ہیں، وہاں کے حکام کے لیے اصل سفارتی ایجنڈا بعد میں طے ہوتا ہے، پہلے میزبانوں کو یہ سوچنا پڑتا ہے کہ اس بار ہمارے مہمان کے لیے کون سا خصوصی تمغہ یا اعزازی نشان تیار رکھا گیا ہے؟۔
مودی کی ترجیحات
تجزیہ کاروں کے مطابق دنیا کے دیگر تمام سنجیدہ اور روایتی عالمی رہنما جب بھی کسی بیرونی دورے پر روانہ ہوتے ہیں، تو ان کے بیگ میں تجارت کے فروغ، سیکیورٹی معاہدوں، علاقائی استحکام اور اپنے ملک کے ٹھوس قومی مفادات کی فائلیں ہوتی ہیں۔
اس کے برعکس نریندر مودی کے غیر ملکی دوروں کی منفرد اور نمایاں ترین بات صرف اور صرف یہ بن چکی ہے کہ کس طرح زیادہ سے زیادہ تمغے اکٹھے کیے جائیں، کتنے مختلف رنگوں کے اعزازی نشان سینے پر سجائے جائیں، اور میڈیا کوریج کے لیے کس انداز سے غیر ملکی رہنماؤں سے زبردستی گلے ملا جائے۔
مصنوعی سفارت کاری
سفارتی ماہرین کے مطابق مودی کی سفارت کاری اب عوامی فلاح یا تزویراتی کامیابیوں کے بجائے محض ایک فوٹو سیشن میں تبدیل ہو چکی ہے، جہاں کیمرے کے سامنے مصنوعی مسکراہٹیں بکھیرنا اور عالمی رہنماؤں کو گلے لگانا ہی اصل کامیابی تصور کیا جاتا ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ مودی کے لیے کسی بھی غیر ملکی دورے کی کامیابی کا معیار یہ نہیں ہوتا کہ بھارت کو معاشی یا دفاعی طور پر کیا فائدہ پہنچا، بلکہ معیار یہ ہوتا ہے کہ واپسی پر ان کے پاس دنیا کو دکھانے کے لیے کتنے نئے ایوارڈز موجود ہیں۔
تمغوں کے حصول کا یہ اشتیاق اب بین الاقوامی سطح پر بھارتی سفارت کاری کے سنجیدہ امیج کو بری طرح متاثر کر رہا ہے، اور مودی کا ہر نیا دورہ قومی مفادات کے بجائے ذاتی تشہیر کا ذریعہ بنتا جا رہا ہے۔