پاکستان میں عسکری حملوں میں 42 فیصد کمی محض اعداد و شمار نہیں بلکہ ‘آپریشن غضب للحق’ کی کامیابی کا ثبوت ہے۔ ریاست کی زیرو ٹالرنس پالیسی نے دہشت گردوں کے نیٹ ورک کو مفلوج کر دیا ہے، تاہم مستقل امن کے لیے سیاسی و سماجی اصلاحات اور مسلسل چوکسی ناگزیر ہے۔
افغان طالبان نے لوگر تانبا منصوبے میں تاخیر پر چینی کمپنیوں سے ناراضگی کا اظہار کیا ہے، جبکہ کابل دھماکے کے بعد چینی باشندوں کی نقل و حرکت محدود کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
ایران نے جوہری اور میزائل معاملات پر پاکستان میں امریکہ کے ساتھ براہِ راست مذاکرات کی تجویز دے دی ہے، جسے وال اسٹریٹ جرنل نے بڑی سفارتی پیش رفت قرار دیا ہے۔
امریکہ نے بھارتی مخالفت کے باوجود پاکستان کے ایف 16 طیاروں کے لیے 488 ملین ڈالر کی تکنیکی معاونت کا ایوارڈ جاری کر دیا ہے، جس سے ملکی فضائی دفاع مزید مضبوط ہوگا۔
فریڈم نیٹ ورک کی رپورٹ میں قانونی کارروائیوں کو ‘خلاف ورزی’ قرار دے کر حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ماہرین نے اسے غیر جانبدارانہ رپورٹ کے بجائے ‘کلوزڈ سرکٹ نیریٹیو’ قرار دے دیا۔
پاکستان نے الجزیرہ کی جانب سے وزیراعظم آفس کے ذرائع سے منسوب خبر کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے صدر ٹرمپ کو فوجی فیصلے سے متعلق درخواست کے دعوے کی تردید کر دی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی علی الزیدی کو عراق کا وزیراعظم بننے پر مبارکباد؛ دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی اور علاقائی امن و استحکام کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے افغان سرحد پر شہری آبادی کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے طالبان حکومت کی سفاکیت قرار دے دیا؛ باجوڑ میں خواتین اور بچوں سمیت نو شہریوں کی شہادت پر گہری تشویش کا اظہار۔
پاکستانی فورسز نے ژوب سیکٹر کے مدمقابل افغان سرحد کے اندر 32 مربع کلومیٹر پر مشتمل ‘گڈوانہ انکلیو’ کا کنٹرول حاصل کر لیا، آئی جی ایف سی بلوچستان نارتھ میجر جنرل عاطف مجتبیٰ کے دورے کی فوٹیج منظر عام پر آگئی۔