افغانستان میں ہزارہ برادری کو ایک صدی سے زائد عرصے سے منظم مظالم، قتلِ عام اور اب سیاسی اخراج کا سامنا ہے، جس سے ان کی بقا اور شناخت کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
پاکستانی سفیر فیصل نیاز ترمذی سے منسوب امریکہ، اسرائیل اور ایران تنازع میں روسی ثالثی کی خبریں بے بنیاد قرار؛ سفیر نے متعلقہ صحافی سے ملاقات کی تردید کرتے ہوئے اسے جھوٹی رپورٹنگ قرار دے دیا۔
نیشنل پریس کلب کے پلیٹ فارم کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرنے اور عالمی سطح پر ملکی وقار کو ٹھیس پہنچانے والے مخصوص صحافتی ٹولے کے خلاف تادیبی کارروائی کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔
ماضی کے جنگی فتووں اور مفاد پرست طبقوں کے تضاد نے غریب کی نسلوں کو برباد کیا؛ اب وقت ہے کہ نوجوانوں کو ہتھیار کے بجائے کتاب دے کر علم و شعور کی راہ پر ڈالا جائے۔
کابل میں بحالی مرکز کے عسکری استعمال پر سامنے آنے والی قانونی تشخیص نے طالبان کے الزامات پر سوالات اٹھا دیے ہیں؛ بین الاقوامی قوانین کے تحت عسکری مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے سویلین مقامات اپنا تحفظ کھو دیتے ہیں۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے ججز کی دیگر صوبوں میں ممکنہ منتقلی نے 16 سالہ جمود کو توڑنے کی راہ ہموار کر دی ہے؛ ماہرین اسے عدالتی شفافیت اور روٹیشن پالیسی کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔
پاک افغان سرحد پر سکیورٹی فورسز کی کاروائی میں 5 دہشت گرد ہلاک ہو گئے، جن کی تدفین اور نمازِ جنازہ افغان طالبان کی نگرانی میں ادا کی گئی، جو دونوں کے درمیان گٹھ جوڑ کا واضح ثبوت ہے۔
عالمی منڈی میں تیل 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کے باوجود حکومت نے 129 ارب روپے کی سبسڈی برقرار رکھتے ہوئے ٹارگٹڈ ریلیف پروگرام میں ایک ماہ کی توسیع کر دی۔
سکیورٹی فورسز نے ضلع مہمند میں سرحد پر دراندازی کی کوشش کرنے والے خوارج کے گروہ کی نقل و حرکت کا بروقت پتہ لگایا اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے 8 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔