سکیورٹی اداروں نے خضدار میں کاروائی کرتے ہوئے مبینہ خودکش بمبار لائبہ عرف فرزانہ کو گرفتار کر لیا، جس کے اعترافی بیان نے دہشت گرد تنظیموں کی جانب سے خواتین کے استحصال کو بے نقاب کر دیا ہے
پاکستان نے افغانستان پر جنگ مسلط نہیں کی بلکہ دہشتگردی کی جنگ پاکستان پر تھوپی گئی ہے۔ ہزاروں پاکستانی شہری اس جنگ میں اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، وانا کیڈٹ کالج پر حملہ ہو یا ترلائی مسجد کا دھماکہ، ذمہ داران کا تعلق ہمیشہ افغانستان سے ہی کیوں ہوتا ہے
مضحکہ خیز بات یہ ہے کہ اسرائیل پاکستان کو روگ اسٹیٹ قرار دے رہا ہے کہ جو خود نہ صرف ایک ناجائز ریاست ہے بلکہ دنیا بھر میں بے گناہ لاکھوں انسانوں کی قاتل ہے۔
سیاسی مفاد کے لیے مذہبی مقدسات کو نشانہ بنانے پر عوامی حلقوں کا شدید ردعمل؛ وجاہت سعید کی جانب سے قرآنی آیات کی مبینہ توہین پر فوری قانونی کاروائی کا مطالبہ کر دیا گیا
ملک بھر کے جید علمائے کرام نے افغان مولوی کے پاکستان مخالف فتوے کو علمی و شرعی طور پر مسترد کر دیا ہے۔ علماء کا کہنا ہے کہ پاک فوج کے خلاف بغاوت کو جہاد کا نام دینا فتنہِ خوارج کی علامت ہے اور ایسی گمراہ کن مہم جوئی کا مقصد صرف فساد پھیلانا ہے
کچھ تجزیہ کار اس بیانیے کو وسیع تر نظریاتی تناظر میں بھی دیکھ رہے ہیں، جہاں ہندوتوا اور صہیونیت سے منسلک بیانیے عالمی سطح پر مخصوص اسلامی ممالک کو خطرہ بنا کر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اسلامی فقہ کے تحت جہاد دفاعی نوعیت کا ہوتا ہے اور اس کے لیے ریاستی اجازت لازمی ہوتی ہے، جبکہ سرحد پار حملوں کی حمایت اس اصول کے خلاف ہے۔