طالبان حکومت کے وزیرِ حج و اوقاف مولوی شیخ نور محمد ثاقب نے کہا ہے کہ افغانستان کو پاکستان کے ساتھ موجودہ سیاسی اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر خطے کے طویل مدتی استحکام اور باہمی مفادات کو ترجیح دینی چاہیے۔
افغان وزیر نے بھارت کے ساتھ بڑھتی ہوئی سفارتی اور معاشی قربت پر بھی خبردار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کے ساتھ ضرورت سے زیادہ تعلقات افغانستان کو اس کے روایتی شراکت داروں اور وسیع تر اسلامی دنیا سے دور کر سکتے ہیں، جس سے کابل کی بین الاقوامی تنہائی میں مزید اضافہ ہوگا۔
Taliban's Minister for Hajj and Auqaf Mawlawi Sheikh Noor Mohammad Saqib said that Afghanistan should move beyond political differences with Pakistan and prioritize long-term stability.
— The Intel Consortium (@IntelPk_) August 9, 2026
He also says that excessive alignment with India could deepen Afghanistan’s isolation from… pic.twitter.com/Twd92Ar6s6
سفارتی ذرائع کے مطابق ماضی میں پاک افغان سرحد کی بندش کی بنیادی وجہ محض معاشی یا تجارتی تنازعات نہیں، بلکہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان اور دیگر عسکریت پسند گروہوں کی افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردانہ کارروائیاں تھیں۔
تاہم اب افغان طالبان کے سنجیدہ حلقوں میں اس بات کا احساسہو رہا ہے کہ خطے میں معاشی بقا کے لیے پاک افغان تعلقات کی استواری ضروری ہے۔
دوسری جانب پاکستان کا مؤقف روزِ اول سے بالکل واضح اور قائم ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکا جائے۔
اسلام آباد کا مسلسل یہ تقاضا رہا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی گزرگاہوں کو صرف قانونی اور منظم تجارت کے لیے استعمال کیا جائے تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔
دیکھیے: طالبان کا خطرناک ڈرون پروگرام، بھارت اور القاعدہ کے گٹھ جوڑ کا انکشاف