اسلام آباد: افغانستان کے ایک پراپیگنڈا میڈیا آؤٹ لیٹ کی جانب سے یہ مضحکہ خیز اور من گھڑت دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان نے افغانستان اور روس کے درمیان ہونے والے مبینہ دفاعی معاہدے پر ماسکو سے باقاعدہ احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ دعویٰ پاکستان کو نشانہ بنانے اور علاقائی سطح پر سفارتی تنازع کھڑا کرنے کی ایک وسیع تر منظم پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہے، جس کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔
احتجاج کی تردید
سفارتی ذرائع اور معتبر حقائق کے مطابق پاکستان نے اس سلسلے میں کسی بھی ملک یا فورم پر کوئی احتجاج ریکارڈ نہیں کرایا ہے۔ روس کو شکایات بھیجنے سے متعلق تمام دعوے اور خبریں دراصل افغانستان کے اسی پرانے پروپیگنڈا سیل کا حصہ ہیں جنہیں ری سائیکل کر کے ایک مصنوعی ہیجان اور جھوٹی تشویش پیدا کرنے کے لیے دوبارہ نشر کیا جا رہا ہے، جبکہ حقیقت میں ایسی کسی شکایت کا وجود ہی نہیں ہے۔
افغان انحصار
رپورٹس کے مطابق افغان عبوری حکام اور ان کے گماشتے دنیا کے کسی بھی کونے میں جا کر امداد یا سفارتی بھیک مانگنے کے لیے آزاد ہیں۔ پاکستان کو ان کی اس محتاجی اور بیرونی دوروں کے سرکس سے کوئی سروکار نہیں ہے، کیونکہ یہ ان کا اپنا اندرونی معاملہ اور انحصار کی مجبوری ہے جس کا ملکی خودمختاری سے کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔
بھارتی اسکرپٹ
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کے موجودہ پروپیگنڈا نیٹ ورکس کا اسکرپٹ اور بیانیہ ان کے بھارتی آقاؤں کے روایتی انداز سے بالکل مماثلت رکھتا ہے۔ پاکستان مخالف بیانیے کو ہلہ شیری دینا، ڈس انفارمیشن کے پرانے سانچوں کو استعمال کرنا اور اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈالنا، یہ سب اسی پرانے اسکرپٹ کا حصہ ہے جو طویل عرصے سے پاکستان کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔
دہشت گردوں کی پناہ گاہیں
حکومتی اور دفاعی ماہرین کے مطابق من گھڑت اور فرضی پاکستانی احتجاج کی کہانیاں تراشنے کے بجائے طالبان کے پروپیگنڈا کاروں کو دنیا کے سامنے اس اصل سوال کا جواب دینا چاہیے کہ پاکستان مخالف دہشت گرد نیٹ ورکس اور بھارتی سرپرستی میں چلنے والی کالعدم تنظیمیں اب بھی افغانستان کی سرزمیں پر محفوظ پناہ گاہیں اور کارروائیوں کے لیے سازگار ماحول کیسے حاصل کر رہی ہیں؟ طالبان انتظامیہ کو اس معاملے پر بغلیں جھانکنے کے بجائے اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں۔