مددگار یا مکار؟ اپنوں کے ہاتھوں قتل کے لرزہ خیز واقعات

مددگار یا مکار؟

اپنوں کے لبادے میں چھپے قاتلوں اور خونی رشتوں کے پامال ہوتے تقدس پر ایک دردناک تحریر، جو مددگار چہروں کے پیچھے چھپے مکروہ اور سفاک کرداروں کو بے نقاب کرتی ہے۔

افغان میڈیا کا روس کو پاکستانی احتجاج کا دعویٰ بے بنیاد قرار

افغان میڈیا کا پاکستان کی جانب سے روس کو مبینہ احتجاج کا دعویٰ سراسر لغو اور مضحکہ خیز پراپیگنڈا قرار؛ پاکستان کا کوئی احتجاج ریکارڈ نہیں کرایا گیا۔
افغان میڈیا کا پاکستان کی جانب سے روس کو مبینہ احتجاج کا دعویٰ سراسر لغو اور مضحکہ خیز پروپیگنڈا قرار؛ پاکستان کا کوئی احتجاج ریکارڈ نہیں کرایا گیا۔

پاکستان نے روس اور افغانستان کے دفاعی معاہدے پر مبینہ احتجاج کے افغان پراپیگنڈے کو یکسر مسترد کر دیا۔ حقائق کے مطابق یہ من گھڑت بیانیہ پاکستان کو نشانہ بنانے کی ایک ناکام کوشش ہے۔

June 1, 2026

اسلام آباد: افغانستان کے ایک پراپیگنڈا میڈیا آؤٹ لیٹ کی جانب سے یہ مضحکہ خیز اور من گھڑت دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان نے افغانستان اور روس کے درمیان ہونے والے مبینہ دفاعی معاہدے پر ماسکو سے باقاعدہ احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ دعویٰ پاکستان کو نشانہ بنانے اور علاقائی سطح پر سفارتی تنازع کھڑا کرنے کی ایک وسیع تر منظم پروپیگنڈا مہم کا حصہ ہے، جس کا حقیقت سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔

احتجاج کی تردید

سفارتی ذرائع اور معتبر حقائق کے مطابق پاکستان نے اس سلسلے میں کسی بھی ملک یا فورم پر کوئی احتجاج ریکارڈ نہیں کرایا ہے۔ روس کو شکایات بھیجنے سے متعلق تمام دعوے اور خبریں دراصل افغانستان کے اسی پرانے پروپیگنڈا سیل کا حصہ ہیں جنہیں ری سائیکل کر کے ایک مصنوعی ہیجان اور جھوٹی تشویش پیدا کرنے کے لیے دوبارہ نشر کیا جا رہا ہے، جبکہ حقیقت میں ایسی کسی شکایت کا وجود ہی نہیں ہے۔

افغان انحصار

رپورٹس کے مطابق افغان عبوری حکام اور ان کے گماشتے دنیا کے کسی بھی کونے میں جا کر امداد یا سفارتی بھیک مانگنے کے لیے آزاد ہیں۔ پاکستان کو ان کی اس محتاجی اور بیرونی دوروں کے سرکس سے کوئی سروکار نہیں ہے، کیونکہ یہ ان کا اپنا اندرونی معاملہ اور انحصار کی مجبوری ہے جس کا ملکی خودمختاری سے کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا۔

بھارتی اسکرپٹ

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کے موجودہ پروپیگنڈا نیٹ ورکس کا اسکرپٹ اور بیانیہ ان کے بھارتی آقاؤں کے روایتی انداز سے بالکل مماثلت رکھتا ہے۔ پاکستان مخالف بیانیے کو ہلہ شیری دینا، ڈس انفارمیشن کے پرانے سانچوں کو استعمال کرنا اور اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر ڈالنا، یہ سب اسی پرانے اسکرپٹ کا حصہ ہے جو طویل عرصے سے پاکستان کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے۔

دہشت گردوں کی پناہ گاہیں

حکومتی اور دفاعی ماہرین کے مطابق من گھڑت اور فرضی پاکستانی احتجاج کی کہانیاں تراشنے کے بجائے طالبان کے پروپیگنڈا کاروں کو دنیا کے سامنے اس اصل سوال کا جواب دینا چاہیے کہ پاکستان مخالف دہشت گرد نیٹ ورکس اور بھارتی سرپرستی میں چلنے والی کالعدم تنظیمیں اب بھی افغانستان کی سرزمیں پر محفوظ پناہ گاہیں اور کارروائیوں کے لیے سازگار ماحول کیسے حاصل کر رہی ہیں؟ طالبان انتظامیہ کو اس معاملے پر بغلیں جھانکنے کے بجائے اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں۔

متعلقہ مضامین

مکہ مکرمہ میں مسجد کے تقدس کی پامالی پر 2 بنگلہ دیشی شہریوں کو سزائے موت دے دی گئی، جبکہ عدالتی تحقیقات کے ذریعے ملزمان کے حق میں پھیلائی جانے والی گمراہ کن افواہوں کو رد کر دیا گیا۔

November 4, 2026

طلبہ سیاست سے عسکریت پسندی تک کا سفر طے کرنے والے بشیر زیب کون ہیں، جنہیں کالعدم بی ایل اے نے سربراہی کے عہدے سے برطرف کر دیا ہے۔

November 4, 2026

ٹرمپ نے ایران کے خلاف بڑی فوجی کارروائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کو کچھ بڑا کرنا ہوگا۔

November 4, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *