خیبر پختونخوا میں دہشتگرد عناصر کے خلاف آپریشن 11 گرج کے تحت سکیورٹی فورسز نے کارروائیاں تیز کردی ہیں۔ مختلف علاقوں میں جاری انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز اور ڈرون کارروائیوں میں 56 خوارج ہلاک جبکہ 100 کے شدید زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
رپورٹس کے مطابق کارروائیاں درہ آدم خیل، کرک، اورکزئی، ہنگو، کرم اور پاراچنار سمیت کوہاٹ ڈویژن کے مختلف علاقوں میں جاری ہیں۔
سکیورٹی فورسز مشتبہ ٹھکانوں اور دہشتگرد عناصر کی نقل و حرکت کو انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر نشانہ بنا رہی ہیں۔ اس دوران زمینی کارروائیوں کے ساتھ ڈرونز بھی استعمال کیے جا رہے ہیں۔
سرچ آپریشن
سکیورٹی فورسز دشوار گزار علاقوں میں مشتبہ ٹھکانوں کی نگرانی کے لیے ڈرونز استعمال کر رہی ہیں۔ اس کے بعد انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر کارروائی کی جا رہی ہے۔
کارروائیوں کے بعد مختلف علاقوں میں سرچ اور کلیئرنس آپریشن بھی جاری ہیں۔ سکیورٹی فورسز دہشتگرد عناصر کی نقل و حرکت اور ممکنہ ٹھکانوں کا سراغ لگانے کے لیے انٹیلی جنس معلومات سے مدد لے رہی ہیں۔
آپریشن کا دائرہ وسیع
آپریشن 11 گرج کے تحت خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں اس سے قبل بھی کارروائیاں رپورٹ ہوچکی ہیں۔ دستیاب ریکارڈ کے مطابق اس آپریشن میں انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں کے ساتھ ڈرونز اور زمینی فورسز کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔
سکیورٹی فورسز کے مطابق متاثرہ علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں۔ مزید انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر اہداف کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ساتھ ہی مقامی آبادی کے تحفظ اور امن و امان کی بحالی کو بھی اہمیت دی جا رہی ہے۔