اسلام آباد: سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر بھارتی، افغان اور اسرائیلی پروپیگنڈا اکاؤنٹس کی جانب سے ایک مربوط اور جھوٹا بیانیہ پھیلایا جا رہا ہے جس میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کی افواج یمن میں تعینات ہیں اور وہاں جاری حالیہ جھڑپوں میں متعدد پاکستانی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یمن میں پاکستان کی کسی بھی قسم کی فوجی تعیناتی موجود نہیں ہے۔
صحافتی اصولوں کے مطابق کسی بھی منظم یا غیر منظم دعوے کو بغیر مصدقہ شواہد کے حتمی حقیقت کے طور پر پیش کرنا درست نہیں، اور اس نوعیت کے حساس دعوے اکثر بغیر کسی مستند سرکاری یا آزاد بین الاقوامی تصدیق کے سامنے آتے ہیں جنہیں فوری طور پر حقیقت کے طور پر قبول نہیں کیا جا سکتا۔
عسکری تعیناتی کے دعوے
اب تک کسی بھی قابلِ اعتماد سرکاری، دفاعی یا بین الاقوامی ذریعے سے یہ تصدیق سامنے نہیں آئی کہ پاکستان کی افواج یمن میں کسی بھی نوعیت کی تعیناتی رکھتی ہیں۔ پاکستان کی عسکری تعیناتیاں اور دفاعی مؤقف ہمیشہ واضح حکومتی پالیسی اور باضابطہ اعلامیے کے تحت ہوتے ہیں، اور اس حوالے سے شفافیت ایک بنیادی اصول ہے۔
بھارتی، افغان اور اسرائیلی پروپیگنڈا اکاؤنٹس کی جانب سے ایک منظم جھوٹا بیانیہ پھیلایا جا رہا ہے جس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پاکستانی فوجی یمن میں تعینات ہیں اور حالیہ جھڑپوں میں کئی اہلکار مارے گئے۔
— Pakistan Cyber Defender (@PakCyberDefn) June 2, 2026
حقیقت یہ ہے کہ یمن میں کسی قسم کی پاکستانی فوجی تعیناتی موجود نہیں۔ یہ مکمل… pic.twitter.com/m6W5jfuw3q
کسی بھی بیرونِ ملک عسکری تعیناتی کے لیے سرکاری سطح پر واضح اعلامیہ ضروری ہوتا ہے، اس پس منظر میں یمن میں پاکستانی فوج کی موجودگی اور جانی نقصان سے متعلق دعوے تاحال مکمل طور پر غیر مصدقہ، من گھڑت اور بے بنیاد ہیں۔
منظم پروپیگنڈا
یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ بیانیہ خاص طور پر بعض افغان اور بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے زیادہ تیزی سے پھیلایا جا رہا ہے، جہاں مختلف پلیٹ فارمز پر ایک ہی طرح کے منظم اور ہم آہنگ پیغامات گردش کر رہے ہیں۔
اس طرز کے مواد میں سیاسی رنگ نمایاں ہے، جس کا بنیادی مقصد عوام کو گمراہ کرنا، پاکستان کے خلاف ایک جھوٹا ماحول پیدا کرنا اور پاکستان کے برادر اسلامی ممالک، بشمول متحدہ عرب امارات (یو اے ای)، کے ساتھ سفارتی تعلقات کو نقصان پہنچانا ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں اطلاعاتی جنگ کے تناظر میں اکثر متضاد بیانیے سامنے آتے ہیں، تاہم انہیں حتمی سچائی کے طور پر پیش کرنے سے پہلے تکنیکی تصدیق ضروری ہوتی ہے۔
پاکستان کے خلاف منظم مہم
ڈیجیٹل اور اطلاعاتی ماحول میں غلط یا غیر مصدقہ خبریں واقعی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہیں، جہاں پاکستان کے دشمن ایک بار پھر جعلی خبروں اور منظم معلوماتی جنگ کے ذریعے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اطلاعاتی جنگ کے موجودہ دور میں مختلف ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کی جانب سے بیانیہ سازی ایک حقیقت ہے، لیکن اس کی نشاندہی بھی ذمہ دارانہ انداز میں اور ٹھوس شواہد کے ساتھ ہونی چاہیے۔
ماہرین کے مطابق بغیر تصدیق کے اس طرح کی مہمات کا حصہ بننا غیر پیشہ ورانہ ہے، تاہم حقائق ہمیشہ اس قسم کے جھوٹے پروپیگنڈے کو بے نقاب کر دیتے ہیں اور ایسے معاملات میں مستند ذرائع اور سرکاری مؤقف ہی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔