لاہور میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے سنگین واقعات

لاہور میں خودکشی کے بڑھتے واقعات

ایدھی کے مطابق لاہور میں دس ماہ میں 112 افراد نے اپنی جان لے لی، جو پچھلے پورے سال کی تعداد کے تقریباً برابر ہے۔ مگر یہ صرف وہ کیس ہیں جو ریکارڈ میں آئے۔ جو چھپا لیے گئے یا جن کی کوئی گنتی ہی نہیں ہوئی، ان کی تعداد کوئی نہیں جانتا۔

یمن میں پاکستانی فوج کی تعیناتی کا دعویٰ بے بنیاد؛ سوشل میڈیا پر پروپیگنڈا مہم بے نقاب

سوشل میڈیا پر یمن میں پاکستانی فوج کی تعیناتی اور ہلاکتوں کا جھوٹا بیانیہ پھیلایا جا رہا ہے، جسے فیک نیوز قرار دے دیا گیا ہے۔
یمن میں پاکستانی فوج کی تعیناتی کا دعویٰ بے بنیاد؛ سوشل میڈیا پر منظم پروپیگنڈا مہم بے نقاب

سوشل میڈیا پر یمن میں پاکستانی افواج کی موجودگی اور ہلاکتوں کے حوالے سے پھیلایا جانے والا بیانیہ سراسر من گھڑت ہے، جس کا مقصد برادر اسلامی ممالک سے پاکستان کے تعلقات خراب کرنا ہے۔

June 3, 2026

اسلام آباد: سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر بھارتی، افغان اور اسرائیلی پروپیگنڈا اکاؤنٹس کی جانب سے ایک مربوط اور جھوٹا بیانیہ پھیلایا جا رہا ہے جس میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کی افواج یمن میں تعینات ہیں اور وہاں جاری حالیہ جھڑپوں میں متعدد پاکستانی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یمن میں پاکستان کی کسی بھی قسم کی فوجی تعیناتی موجود نہیں ہے۔

صحافتی اصولوں کے مطابق کسی بھی منظم یا غیر منظم دعوے کو بغیر مصدقہ شواہد کے حتمی حقیقت کے طور پر پیش کرنا درست نہیں، اور اس نوعیت کے حساس دعوے اکثر بغیر کسی مستند سرکاری یا آزاد بین الاقوامی تصدیق کے سامنے آتے ہیں جنہیں فوری طور پر حقیقت کے طور پر قبول نہیں کیا جا سکتا۔

عسکری تعیناتی کے دعوے

اب تک کسی بھی قابلِ اعتماد سرکاری، دفاعی یا بین الاقوامی ذریعے سے یہ تصدیق سامنے نہیں آئی کہ پاکستان کی افواج یمن میں کسی بھی نوعیت کی تعیناتی رکھتی ہیں۔ پاکستان کی عسکری تعیناتیاں اور دفاعی مؤقف ہمیشہ واضح حکومتی پالیسی اور باضابطہ اعلامیے کے تحت ہوتے ہیں، اور اس حوالے سے شفافیت ایک بنیادی اصول ہے۔

کسی بھی بیرونِ ملک عسکری تعیناتی کے لیے سرکاری سطح پر واضح اعلامیہ ضروری ہوتا ہے، اس پس منظر میں یمن میں پاکستانی فوج کی موجودگی اور جانی نقصان سے متعلق دعوے تاحال مکمل طور پر غیر مصدقہ، من گھڑت اور بے بنیاد ہیں۔

منظم پروپیگنڈا

یہ بات سامنے آئی ہے کہ یہ بیانیہ خاص طور پر بعض افغان اور بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے زیادہ تیزی سے پھیلایا جا رہا ہے، جہاں مختلف پلیٹ فارمز پر ایک ہی طرح کے منظم اور ہم آہنگ پیغامات گردش کر رہے ہیں۔

اس طرز کے مواد میں سیاسی رنگ نمایاں ہے، جس کا بنیادی مقصد عوام کو گمراہ کرنا، پاکستان کے خلاف ایک جھوٹا ماحول پیدا کرنا اور پاکستان کے برادر اسلامی ممالک، بشمول متحدہ عرب امارات (یو اے ای)، کے ساتھ سفارتی تعلقات کو نقصان پہنچانا ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں اطلاعاتی جنگ کے تناظر میں اکثر متضاد بیانیے سامنے آتے ہیں، تاہم انہیں حتمی سچائی کے طور پر پیش کرنے سے پہلے تکنیکی تصدیق ضروری ہوتی ہے۔

پاکستان کے خلاف منظم مہم

ڈیجیٹل اور اطلاعاتی ماحول میں غلط یا غیر مصدقہ خبریں واقعی ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہیں، جہاں پاکستان کے دشمن ایک بار پھر جعلی خبروں اور منظم معلوماتی جنگ کے ذریعے اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اطلاعاتی جنگ کے موجودہ دور میں مختلف ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کی جانب سے بیانیہ سازی ایک حقیقت ہے، لیکن اس کی نشاندہی بھی ذمہ دارانہ انداز میں اور ٹھوس شواہد کے ساتھ ہونی چاہیے۔

ماہرین کے مطابق بغیر تصدیق کے اس طرح کی مہمات کا حصہ بننا غیر پیشہ ورانہ ہے، تاہم حقائق ہمیشہ اس قسم کے جھوٹے پروپیگنڈے کو بے نقاب کر دیتے ہیں اور ایسے معاملات میں مستند ذرائع اور سرکاری مؤقف ہی بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

اسحاق ڈار سے لیاقت بلوچ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے وفد کی ملاقات، پٹرولیم قیمتوں اور کم آمدنی والے طبقے کو ریلیف دینے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

November 3, 2026

بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ عمران خان خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج سے آگاہ تھے، سلمان صفدر نے ملاقات میں انہیں صورتحال سے متعلق بتایا۔

November 3, 2026

مریم نواز نے وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کو ہتکِ عزت کا قانونی نوٹس بھجوانے کا اعلان کرتے ہوئے الزامات کے ثبوت سامنے لانے کا مطالبہ کیا ہے۔

November 3, 2026

مسٹر پتلو کی حفاظتی ضمانت اسلام آباد ہائیکورٹ نے منظور کرلی، عدالت نے انہیں 10 نومبر تک متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت کردی۔

November 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *