فتنۃ الخوارج اور افغان طالبان میں اختلافات کے دعوے من گھڑت پراپیگنڈا ہیں؛ خوارج کو افغان سرپرستی اور پناہ گاہیں بدستور حاصل ہیں۔

August 20, 2026

افغان فریڈم فرنٹ نے فیض آباد میں طالبان کے گورنر ہاؤس پر راکٹ حملے کا دعویٰ کیا ہے جس میں 4 اہلکار ہلاک اور 5 زخمی ہوئے۔

August 20, 2026

بنوں کے شہری انعام خان نے دہشت گردی میں ملوث بیٹے سے لاتعلقی کا اعلان کر کے امن کا پیغام دیا ہے۔

August 20, 2026

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی شامی وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی سے ملاقات، دو دہائیوں بعد کسی شامی وزیر خارجہ کا پاکستان کا پہلا دورہ۔

August 20, 2026

پنجگور کے علاقے کِلّی سوران میں سکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 5 دہشتگرد ہلاک، بھاری اسلحہ اور گاڑیاں برآمد۔

August 20, 2026

وزیراعظم شہباز شریف کی اپوزیشن کو ایک بار پھر بامقصد مذاکرات کی دعوت، کہا تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔

August 20, 2026

امریکی سفیر کے متنازع بیان پر پاکستان برہم، ناظم الامور دفتر خارجہ طلب

امریکی سفیر کے مقبوضہ کشمیر سے متعلق بیان پر پاکستان کا شدید احتجاج، امریکی ناظم الامور دفتر خارجہ طلب، باقاعدہ ڈیمارش جاری۔
دفتر خارجہ اسلام آباد

پاکستان کا امریکی سفیر کے مقبوضہ کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دینے کے بیان پر سخت ردعمل، امریکی ناظم الامور طلب۔

August 20, 2026

پاکستان نے مقبوضہ جموں و کشمیر سے متعلق امریکی سفیر برائے بھارت کے بیان پر شدید احتجاج کرتے ہوئے امریکی ناظم الامور کو دفتر خارجہ طلب کر کے باقاعدہ ڈیمارش جاری کر دیا۔

دفتر خارجہ کے مطابق امریکی سفیر کے مقبوضہ کشمیر کے دورے اور جموں و کشمیر کو بھارت کا حصہ قرار دینے سے متعلق بیان کو یکسر مسترد کیا گیا۔ پاکستان نے واضح کیا کہ جموں و کشمیر ایک بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ متنازع علاقہ ہے، جس کی حتمی حیثیت کا فیصلہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا ہے۔

امریکہ سے مطالبہ

پاکستان نے مؤقف اختیار کیا کہ امریکی سفیر کا بیان امریکا کے دیرینہ مؤقف کے منافی ہے اور بین الاقوامی قانون، اقوامِ متحدہ کے چارٹر اور تنازعات کے پرامن حل سے متعلق امریکی عزم سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ا

امریکی ناظم الامور کو پاکستان کے مؤقف سے آگاہ کرتے ہوئے زور دیا گیا کہ امریکا اپنے عوامی بیانات میں جموں و کشمیر کی متنازع حیثیت کو ملحوظ رکھے۔

دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان نے مسئلہ کشمیر کے منصفانہ اور پائیدار حل کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان اور بھارت کے درمیان ثالثی کی پیشکش کو بھی قابلِ قدر قرار دیا ہے۔

پاکستان نے ایک بار پھر اپنے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ مسئلہ جموں و کشمیر کا حل صرف کشمیری عوام کی امنگوں اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں کے مطابق ہی قابلِ قبول ہوگا۔

دیکھیے: مسئلہ کشمیر: عمر عبداللہ کا واشنگٹن سے براہِ راست رابطوں کا عندیہ

متعلقہ مضامین

فتنۃ الخوارج اور افغان طالبان میں اختلافات کے دعوے من گھڑت پراپیگنڈا ہیں؛ خوارج کو افغان سرپرستی اور پناہ گاہیں بدستور حاصل ہیں۔

August 20, 2026

افغان فریڈم فرنٹ نے فیض آباد میں طالبان کے گورنر ہاؤس پر راکٹ حملے کا دعویٰ کیا ہے جس میں 4 اہلکار ہلاک اور 5 زخمی ہوئے۔

August 20, 2026

بنوں کے شہری انعام خان نے دہشت گردی میں ملوث بیٹے سے لاتعلقی کا اعلان کر کے امن کا پیغام دیا ہے۔

August 20, 2026

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی شامی وزیر خارجہ اسعد حسن الشیبانی سے ملاقات، دو دہائیوں بعد کسی شامی وزیر خارجہ کا پاکستان کا پہلا دورہ۔

August 20, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *