اقوام متحدہ: پاکستان نے اقوام متحدہ میں افغانستان کے اندر جدید ہتھیاروں اور گولہ بارود کے بڑے ذخائر کی موجودگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ صورتحال پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک کے لیے ایک سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ یہ بات اقوام متحدہ کے چھوٹے اور ہلکے ہتھیاروں سے متعلق پروگرام آف ایکشن کے تحت منعقدہ ریاستوں کے نویں دو سالہ اجلاس کے دوران سامنے آئی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ میں پاکستان کے کونسلر سید عاطف رضا نے کہا کہ غیر قانونی ہتھیاروں کی دستیابی بدستور مختلف تنازعات کو ہوا دے رہی ہے اور مسلح گروہوں کو سرحد پار حملے کرنے میں معاونت فراہم کر رہی ہے۔ انہوں نے اس امر کی نشاندہی کی کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی رپورٹس میں بھی افغانستان میں بڑی مقدار میں ہتھیاروں کے ذخائر کی موجودگی کی تصدیق کی گئی ہے۔
Pakistan Warns UN About Large Weapons Stockpiles in Afghanistan
— Afghan Times (@AfghanTimes7) June 2, 2026
United Nations, June 2026: Pakistan has raised concerns at the United Nations over the presence of large stockpiles of advanced weapons and ammunition in Afghanistan, saying they pose a serious threat to Pakistan… pic.twitter.com/kWflTHOmeq
پاکستان نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ جدید ہتھیار دہشت گرد تنظیموں کے ہاتھ لگ سکتے ہیں، جس سے ہمسایہ ممالک کی سلامتی کو مزید شدید خطرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اسلام آباد نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ مسلح گروہوں اور دہشت گرد تنظیموں تک غیر قانونی ہتھیاروں کی رسائی کو روکنے کے لیے مزید مؤثر اور ٹھوس اقدامات کرے۔ پاکستان نے افغانستان اور اس کے گرد و نواح کے خطے میں ہتھیاروں کی غیر قانونی تجارت اور پھیلاؤ کی روک تھام کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی متعلقہ قراردادوں پر مکمل عمل درآمد کا بھی پرزور مطالبہ کیا۔
اس موقع پر غیر قانونی اسلحے کی اسمگلنگ کے خلاف اقوام متحدہ کی کوششوں کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے، پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ اس عمل میں تمام ممالک کی جائز دفاعی ضروریات کو بھی لازمی طور پر مدنظر رکھا جانا چاہیے۔