وزیراعظم شہباز شریف سے پاکستان کے پہلے سرکاری دورے پر آئے ہوئے پرنس رحیم آغا خان پنجم نے اہم ملاقات کی ہے، جس میں متعدد شعبوں میں باہمی تعاون بڑھانے سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے معزز مہمان کے اعزاز میں ناشتے کا اہتمام کیا اور امن، استحکام اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ تعمیری روابط کے فروغ کے لیے ان کے عزم کو سراہا۔
ملاقات کے دوران وزیراعظم نے پاکستان اور آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کے درمیان دیرینہ شراکت داری کو اجاگر کرتے ہوئے دیہی ترقی، صحت، تعلیم، آفات سے نمٹنے، موسمیاتی تبدیلی، قابل تجدید توانائی اور ڈیجیٹل مہارتوں کے شعبوں میں ادارے کے کردار کی تعریف کی، بالخصوص گلگت بلتستان اور چترال کے دُور دراز علاقوں میں نیٹ ورک کی خدمات کو نمایا ں طور پر تسلیم کیا گیا۔
وزیراعظم نے اے کے ڈی این پر زور دیا کہ وہ پاکستان کے ساتھ اپنی شراکت داری کو مزید وسعت دے اور آغا خان یونیورسٹی کے ساتھ صحت و اعلیٰ تعلیم کے شعبوں میں تعاون کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے ماحولیاتی تحفظ کے لیے پرنس رحیم آغا خان کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ اے کے ڈی این شمالی علاقوں میں گلیشیئرز پگھلنے کے خطرات اور موسمیاتی مزاحمت کو مضبوط بنانے میں پاکستان کا ایک قابل اعتماد شراکت دار ہے۔
وزیراعظم نے ایران امریکہ مذاکرات (اسلام آباد ٹاکس) کے لیے سرینا ہوٹل بلا معاوضہ فراہم کرنے پر پرنس رحیم آغا خان کی سخاوت کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ ان کے باقاعدہ دورے پاکستان اور اسماعیلی برادری کے تعلقات کو مزید مستحکم کریں گے۔
ملاقات کے اختتام پر وزیراعظم نے پرنس رحیم آغا خان کے والد پرنس کریم آغا خان چہارم کے انتقال پر دلی تعزیت کا اظہار کیا اور ان کی سات دہائیوں پر محیط انسانی خدمات اور پاکستان کے ساتھ وابستگی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے پاکستان پوسٹ کی جانب سے جاری کردہ یادگاری ڈاک ٹکٹ بھی پیش کیا۔ پرنس رحیم آغا خان پنجم نے پرتپاک استقبال پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انسانی ترقی کے مختلف شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
دیکھیے: واشنگٹن اور تہران کے مابین ثالثی کی کوششیں تیز، محسن نقوی ایران پہنچ گئے