اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کے دوران علیمہ خان کی جانب سے علی محمد خان کو ڈائس سے ہٹانے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر زیرِ بحث ہے۔ واقعے نے پاکستان تحریک انصاف کے اندر جاری اختلافات اور قیادت کے درمیان بڑھتی ہوئی کھینچا تانی کے سوالات کو ایک بار پھر نمایاں کر دیا ہے۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ میڈیا سے گفتگو کے دوران علیمہ خان نے علی محمد خان کو ڈائس سے ہٹا دیا۔ اس موقع پر پیش آنے والے واقعے نے پارٹی کے اندر باہمی رابطے اور فیصلہ سازی کے انداز پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
پی ٹی آئی پہلے ہی قیادت، احتجاجی حکمت عملی اور مختلف معاملات پر اندرونی اختلافات کا سامنا کرتی رہی ہے۔ ایسے میں عوامی سطح پر پارٹی رہنماؤں کے درمیان اختلاف کا اظہار سیاسی طور پر بھی توجہ حاصل کرتا ہے۔
🚨🚨سپریم کورٹ کے باہر میڈیا ٹاک کے دوران علیمہ خان نے علی محمد خان کو ڈائس سے ہٹا دیا۔۔۔!! pic.twitter.com/rDUFQJNivr
— Ali Tanoli (@alitanoli889) September 16, 2026
حالیہ دنوں میں علیمہ خان بھی عمران خان سے متعلق معاملات پر مسلسل میڈیا سے گفتگو کر رہی ہیں۔ 16 ستمبر کو سپریم کورٹ کے باہر انہوں نے عدالتی معاملات اور عمران خان سے متعلق اپنے مؤقف پر بات کی تھی۔
ذاتی مفاد یا پارٹی مفاد؟
جب اختلافات عوامی مقامات پر نمایاں ہونے لگیں تو قیادت اور کارکنوں کے درمیان ترجیحات پر سوالات اٹھتے ہیں۔
عام شہریوں اور سپورٹرز کے لیے یہ واقعہ اس بحث کو تقویت دیتا ہے کہ جب سیاسی جماعت میں مشترکہ مقصد کے بجائے مختلف شخصیات کے مفادات، اثر و رسوخ یا قیادت کے معاملات اہم ہو جائیں تو اندرونی اختلافات سامنے آ سکتے ہیں۔