پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی موجودہ سیاست میں یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ پارٹی میں حتمی فیصلوں کا اختیار کس کے پاس ہے؟ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کے حوالے سے پارٹی قیادت کے متضاد فیصلوں نے ایک نیا سیاسی ابہام پیدا کر دیا ہے۔
اس سے قبل بیرسٹر گوہر علی خان سمیت دیگر رہنماؤں کا مؤقف تھا کہ محمود خان اچکزئی اور علامہ راجہ ناصر عباس کو مذاکرات کا اختیار بانی چیئرمین عمران خان کی ہدایت پر دیا گیا تھا۔ پارٹی رہنما یہ کہتے رہے ہیں کہ عمران خان کے فیصلوں کو ان کی منظوری کے بغیر تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
تاہم، ذرائع کے مطابق پی ٹی آئی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں اب علی امین گنڈاپور کو مذاکرات کا اختیار دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اجلاس میں کہا گیا کہ گنڈاپور کے محسن نقوی اور اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ رابطے ہیں، جس سے مذاکرات کے امکانات بہتر ہو سکتے ہیں۔
اس نئی پیشرفت نے یہ اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں کہ کیا یہ تبدیلی عمران خان کی اجازت سے کی گئی ہے يا پارٹی قیادت نے خود یہ فیصلہ کیا ہے؟ اگر بانی پی ٹی آئی کی منظوری کے بغیر یہ اقدام اٹھایا گیا ہے تو اس سے ان کے فیصلوں پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
دوسری جانب پی ٹی آئی رہنما مشال یوسفزئی کے مطابق عمران خان سے ملاقاتیں نہ ہونے کے باعث مستقبل کے فیصلے پارلیمانی پارٹی میں ووٹنگ کے ذریعے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس سے قبل فیصلے بیرسٹر گوہر، سلمان اکرم راجا اور دیگر سینئر رہنما کر رہے تھے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق عمران خان کے فیصلوں سے ہٹ کر یا ان کی عدم موجودگی میں فیصلے کرنے سے یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ پارٹی شاید عملی طور پر بانی چیئرمین کے بغیر آگے بڑھنے کی کوشش کر رہی ہے، جو پی ٹی آئی کے لیے سیاسی طور پر نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔





