امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کے ساتھ پیر کو اسلام آباد میں مذاکرات کی تصدیق کر دی، وفود کی آمد اتوار سے متوقع۔

April 18, 2026

افغانستان میں ‘امارات’ کے نام پر قائم نظام شریعت کے بنیادی تقاضوں اور عوامی امنگوں سے متصادم؛ نسلی بالادستی اور مذہبی جبریت نے افغان معاشرے کو ایک نئے بحران کی طرف دھکیل دیا۔

April 18, 2026

افغانستان میں طالبان کی ‘امارات’ شرعی معیار پر پورا اترنے میں ناکام؛ ماہرینِ شریعت، عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے موجودہ نظام کو عوامی بیعت کے بجائے ‘غاصبانہ قبضہ’ قرار دے دیا۔

April 18, 2026

امریکہ اور ایران کے مابین جنگی خطرات ٹالنے اور مذاکرات کی میزبانی پر عالمی قیادت کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی حکمت عملی کو خراجِ تحسین۔

April 18, 2026

انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر پاکستان، ترکیہ اور قطر کی قیادت کے درمیان اہم سہ فریقی ملاقات؛ علاقائی استحکام کے لیے مشترکہ کوششوں اور مسلسل مذاکرات کی اہمیت پر زور۔

April 18, 2026

انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کا اہم مشاورتی اجلاس؛ علاقائی امن و استحکام کے لیے سفارت کاری کو ناگزیر قرار دے دیا۔

April 18, 2026

پی ٹی آئی کی دوہری سیاست: خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی آپریشنز کی مخالفت

سابقہ حکمران جماعت پاکستان تحریکِ انصاف محض سیاسی مفاد کی خاطر سیکیورٹی آپریشن کی مخلافت کرتے ہوئے دہشت گردوں کے لیے نرم گوشہ اختیار کیے ہوئی ہے
سابقہ حکمران جماعت پاکستان تحریکِ انصاف محض سیاسی مفاد کی خاطر سیکیورٹی آپریشن کی مخلافت کرتے ہوئے دہشت گردوں کے لیے نرم گوشہ اختیار کیے ہوئی ہے

سلامی اداروں سے تعاون اور سیکورٹی آپریشن اس لیے بھی ناگزیر ہیں کہیں 2009 سے قبل کا دور نہ لوٹ آئے

October 14, 2025

پاکستان ایک بار پھر دہشت گردی کے دور سے گزر رہا ہے۔ وطن کے محافظ اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر عوام کے تحفظ کو یقینی بنارہے ہیں مگر تعجب اس بات پر ہے کہ خیبر پختونخوا میں ایک دہائی سےزائد عرصہ تک حکمرانی کرنے والی جماعت پاکستان تحریک انصاف دہشت گردی کے خلاف اقدامات کرنے بجائے سیکیورٹی آپریشنز کی مخالفت کررہی ہے۔

قومی سلامتی پر سیاسی مفاد کو ترجیح

دیکھا جائے تو ماضی جب وفاقی حکومت انہی کے ہاتھوں میں تھی تب سیکیورٹی آپریشنز کی مخالفت تو دور کی بات ہے پاکستان تحریکِ انصاف کی قیادت سیکیورٹِ آپریشنز کو قومی عزت اور ریاستی کامیابی قرار دیتے تھے۔ لیکن آج جب ریاست ایک نئے عزم سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کر رہی ہے تو یہی سابقہ حکمران جماعت محض سیاسی مفاد کی خاطر سیکیورٹی آپریشن کی مخلافت کرتے ہوئے دہشت گردوں کے لیے نرم گوشہ اختیار کیے ہوئی ہے۔

قبائلی علاقوں میں ہونے والےحالیہ حملے اس بات کے گواہی دے رہے ہیں کہ دہشت گرد گروہ ایک مرتبہ پھر اپنی جڑیں مضبوط کر رہے ہیں۔ دیکھا جائے تو ماضی میں انہی گروہوں نے صوبے کے امن کو برباد کیا تھا۔ لیکن پی ٹی آئی قیادت حقائق کو نطر انداز کرتے ہوئے ریاستی اداروں کو تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے۔ نتیجتاً دہشت گرد گروہن کے لیے فضا سازگار ہورہی ہے۔

ریاستی آپریشنز کے مقاصد

خیال رہے کہ یہ آپریشن کسی سیاسی و مذہبی جماعت کے خلاف قطعاً نہیں بلکہ پاکستان کے امن و استحکام اور عوام کے تحفظ کے لیے ہیں۔ ہمارے سیکیورٹی ادارے ایک ایسے دشمن کے خلاف صف آرا ہیں جو نہ انسانی جان کا بھی لحاظ نہیں کرتا۔

اس طرح حالات سے محفوظ رہنے کے لیے ملکی و سلامتی کی جانب سے سیکیورٹی آپریشن ناگزیر ہیں اور اسی سلسلے میں پاکستانی عوام پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ سلامتی اداروں کے شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہوئے سیکیورٹی آپریشن کی حمایت کریں۔

دہشت گرد عناصر سے روابط

تحقیقات سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف کے بعض سیاست دانوں نے اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنے کے لیے شدت دہشت گروہوں سے تعلقات استوار کیے ہیں۔ اس قسم کی سیاست دراصل امن و امان اور ریاست پالیسی کے بجائے دہشت گردی کی راہ ہموار کررہی ہے۔

قومی سلامتی کو چیلنجز

یہ وقت سیاست مفادات یا عوامی ہمدردیاں سمیٹنے کا نہیں۔ کیونکہ سہشت گرد عناصر پڑوسی ملک افغان سرزمین اور افغان سرحد پر موجود ہیں۔ عین اس وقت صوبہ خیبر پختونخوا کے چند لوگ محض سیاسی مفادات کی خاطر ریاستی بیانیوں سے لڑ رہے ہیں۔ لہذا پی ٹی آئی قیادت کو سمجھ لینا چاہیے کہ ریاستی آپریشنز کی مخالفت دراصل انہی دشمن قوتوں کو تقویت پہنچانے کے برابر ہے لہذا اگر ملک میں امن چاہیے، تو ہر سیاسی جماعتوں کو ریاستی اداروں کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا ہوگا۔

دیکھیں: اورکزئی میں سیکیورٹی فورسز کا کامیاب آپریشن، 30 دہشت گرد ہلاک

متعلقہ مضامین

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ایران کے ساتھ پیر کو اسلام آباد میں مذاکرات کی تصدیق کر دی، وفود کی آمد اتوار سے متوقع۔

April 18, 2026

افغانستان میں ‘امارات’ کے نام پر قائم نظام شریعت کے بنیادی تقاضوں اور عوامی امنگوں سے متصادم؛ نسلی بالادستی اور مذہبی جبریت نے افغان معاشرے کو ایک نئے بحران کی طرف دھکیل دیا۔

April 18, 2026

افغانستان میں طالبان کی ‘امارات’ شرعی معیار پر پورا اترنے میں ناکام؛ ماہرینِ شریعت، عالمی اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے موجودہ نظام کو عوامی بیعت کے بجائے ‘غاصبانہ قبضہ’ قرار دے دیا۔

April 18, 2026

امریکہ اور ایران کے مابین جنگی خطرات ٹالنے اور مذاکرات کی میزبانی پر عالمی قیادت کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی حکمت عملی کو خراجِ تحسین۔

April 18, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *