گیارہ ستمبر 1948 پاکستان کی تاریخ کا وہ دن ہے جسے شاید کوئی پاکستانی کبھی بھلا نہیں سکتا۔ آزادی کے صرف ایک سال بعد قوم اپنے اس رہنما سے محروم ہوگئی جس نے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک الگ وطن کے حصول کے لیے متحد کیا اور اپنی سیاسی بصیرت، اصول پسندی اور مسلسل جدوجہد سے پاکستان کے قیام کی راہ ہموار کی۔ قائداعظم محمد علی جناح 11 ستمبر 1948 کو 71 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔ وہ پاکستان کے پہلے گورنر جنرل تھے اور آزادی کے بعد بھی ایک نئے ملک کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا کرنے کی کوششوں میں مصروف رہے۔
قائداعظم کی زندگی صرف پاکستان کے قیام کی جدوجہد تک محدود نہیں تھی۔ وہ ایک کامیاب قانون دان اور ایسے سیاسی رہنما تھے جنہوں نے اصولوں اور آئینی جدوجہد کو اپنی سیاست کا بنیادی راستہ بنایا۔ 1913 سے مسلم لیگ کی قیادت کرتے ہوئے انہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کے سیاسی حقوق کے لیے آواز بلند کی۔ وقت کے ساتھ ان کا سیاسی مؤقف ایک علیحدہ مسلم ریاست کے مطالبے میں تبدیل ہوا اور بالآخر 14 اگست 1947 کو پاکستان دنیا کے نقشے پر ایک آزاد ملک کے طور پر ابھرا۔
پاکستان کا قیام قائداعظم کی منزل ضرور تھا، لیکن اس کے بعد ان کے سامنے ایک اور بڑی ذمہ داری تھی: ایک نئے ملک کو سنبھالنا۔ آزادی کے فوراً بعد لاکھوں مہاجرین کی آبادکاری، انتظامی مسائل، معاشی مشکلات اور ریاستی اداروں کی تشکیل جیسے بڑے چیلنجز موجود تھے۔ قائداعظم نے اپنی مختصر مدتِ حکمرانی میں ان مسائل سے نمٹنے کی کوشش کی اور ایک ایسی ریاست کے قیام پر زور دیا جہاں قانون کی بالادستی اور شہریوں کے حقوق کو اہمیت حاصل ہو۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق انہوں نے اقلیتوں کے حقوق پر بھی زور دیا اور مہاجرین کی مدد کے لیے عملی اقدامات کیے۔
قائداعظم کی وفات کی خبر پھیلتے ہی کراچی سمیت پورے ملک میں سوگ کی کیفیت طاری ہوگئی۔ ان کی نمازِ جنازہ مولانا شبیر احمد عثمانی نے پڑھائی، جبکہ آخری دیدار اور جنازے میں عوام کی ایک بہت بڑی تعداد شریک ہوئی۔ لوگوں کا ایک جمِ غفیر اپنے قائد کو آخری الوداع کہنے کے لیے جمع تھا۔ یہ منظر اس بات کی عکاسی کرتا تھا کہ ایک سال قبل جس شخصیت نے ایک آزاد ملک کی بنیاد رکھی تھی، اس کی جدائی نے پوری قوم کو غم میں مبتلا کردیا تھا۔
قائداعظم کے انتقال کو 78 برس گزر چکے ہیں، لیکن ان کی شخصیت اور ان کے اصول آج بھی پاکستان کی سیاسی اور قومی گفتگو کا حصہ ہیں۔ ہر سال 11 ستمبر کو سرکاری سطح پر تقریبات، دعائیہ اجتماعات اور مزار قائد پر حاضری کے ذریعے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم صرف اس دن قائداعظم کو یاد کرتے ہیں یا ان کے نظریات کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بھی بناتے ہیں؟
قائداعظم کے تین اصول، اتحاد، ایمان اور نظم و ضبط، آج بھی اتنے ہی اہم ہیں جتنے قیام پاکستان کے وقت تھے۔ شاید آج ان اصولوں کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ اختلافِ رائے کسی بھی معاشرے کا حصہ ہوسکتا ہے، لیکن قومی معاملات میں اتحاد، اداروں کا احترام، قانون کی پاسداری اور ذاتی مفاد سے بالاتر ہوکر ملک کے بارے میں سوچنا ہی کسی قوم کو آگے لے جاتا ہے۔
دیکھا جائے تو قائداعظم کی برسی محض ایک قومی دن یا رسمی یاد نہیں ہونی چاہیے۔ یہ ہمارے لیے اپنے آپ سے سوال کرنے کا دن ہونا چاہیے کہ ہم نے اس پاکستان کے لیے کیا کیا جس کا خواب ایک نسل نے اپنی جدوجہد اور قربانیوں سے پورا کیا تھا۔ قائداعظم نے ہمیں ایک ملک دیا، لیکن اس ملک کو مضبوط، منصفانہ اور ترقی یافتہ بنانا آنے والی نسلوں کی ذمہ داری ہے۔ صرف مزار پر پھول چڑھانے یا تقریروں میں قائداعظم کا نام لینے سے ان کے خواب کی تکمیل نہیں ہوگی؛ ان کے اصولوں کو اپنی سیاست، اداروں، تعلیم، صحافت اور روزمرہ زندگی میں جگہ دینا ہوگی۔
گیارہ ستمبر ہمیں ایک عظیم رہنما کی جدائی کا غم ضرور یاد دلاتا ہے، لیکن اس سے بڑھ کر یہ دن ہمیں اپنی ذمہ داری یاد دلاتا ہے۔ قائداعظم آج ہمارے درمیان موجود نہیں، مگر ان کا دیا ہوا پاکستان ہمارے ہاتھ میں ہے۔ شاید ان کے لیے سب سے بڑا خراجِ عقیدت یہی ہوگا کہ ہم اس ملک کو وہی دیانت، قانون پسندی، نظم و ضبط اور قومی یکجہتی دینے کی کوشش کریں جسے وہ پاکستان کی بنیادوں کا حصہ دیکھنا چاہتے تھے۔
دیکھیے: قائدِ حریت سید علی گیلانی کی آج پانچویں برسی منائی جا رہی ہے