فتنہ الخوارج کے سربراہ نور ولی محسود کی کرم میں موجودگی کا دعویٰ جعلی ثابت، ویڈیو کا مقصد ناکامیوں پر پردہ ڈالنا ہے۔

August 5, 2026

لکی مروت کے علاقے کٹا خیل میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن 11 گرج میں افغان شہری سمیت 3 خوارج ہلاک ہو گئے۔

August 5, 2026

وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کل سعودی عرب کا دو روزہ دورہ کریں گے، جہاں ولی عہد محمد بن سلمان سے اہم ملاقات متوقع ہے۔

August 5, 2026

امریکہ، ایران اور عمان 60 روز کے لیے آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری آمدورفت بحال کرنے کے عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔

August 5, 2026

بھارت نے حسینہ واجد کے ورچوئل خطاب کو نجی تقریب قرار دے کر لاتعلقی کا اظہار کر دیا، جس پر طالبان اور بھارتی بیانیے کی مماثؒت پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔

August 5, 2026

پاکستان مخالف بیانیے کے پیچھے بیرونی فنڈنگ، جنیوا اجلاس سے متعلق مبینہ خطوط اور پراکسی نظام کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔

August 5, 2026

روس نے یوکرین پر صدر پیوٹن کے گھر کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کر دیا؛ زیلنسکی کی تردید

روس نے عندیہ دیا ہے کہ وہ یوکرین کے خلاف سخت ردعمل پر غور کر رہا ہے، جبکہ یوکرین نے روسی دعوؤں کو مکمل طور پر من گھڑت قرار دیا ہے۔
روس نے یوکرین پر صدر پیوٹن کے گھر کو نشانہ بنانے کا الزام عائد کر دیا؛ زیلنسکی کی تردید

وزیراعظم شہباز شریف نے پیوٹن کی رہائش گاہ کو نشانہ بنانے کی اطلاعات کی مذمت کرتے ہوئے اسے “گھناؤنا فعل” قرار دیا۔

December 30, 2025

یوکرین کے صدر وولودی میر زیلنسکی نے روس کی جانب سے لگائے گئے اس الزام کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ یوکرین نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی رہائش گاہ پر ڈرون حملہ کیا۔ زیلنسکی کے مطابق یہ الزامات “روسی جھوٹوں کا ایک اور سلسلہ” ہیں جن کا مقصد جاری امن کوششوں کو ناکام بنانا ہے۔

روسی دعویٰ کیا ہے؟

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے دعویٰ کیا کہ یوکرین نے روس کے شمال مغربی نوگوروڈ ریجن میں واقع صدر پیوٹن کی سرکاری رہائش گاہ پر رات کے وقت 91 طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز سے حملہ کیا۔


لاوروف کے مطابق روسی فضائی دفاعی نظام نے تمام ڈرونز کو مار گرایا اور کسی قسم کے جانی یا مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

لاوروف نے اس مبینہ حملے کو “ریاستی دہشت گردی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ روس اب امن مذاکرات میں اپنی پوزیشن پر نظرثانی کرے گا، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ روس امریکا کے ساتھ جاری مذاکراتی عمل سے دستبردار نہیں ہوگا۔

زیلنسکی کا ردعمل

صدر زیلنسکی نے ان الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ روس اس طرح کے دعوے اس لیے کرتا ہے تاکہ یوکرین پر مزید حملوں کا جواز پیدا کیا جا سکے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر کہا:

“یہ انتہائی ضروری ہے کہ دنیا اس وقت خاموش نہ رہے۔ ہم روس کو پائیدار امن کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔”

زیلنسکی نے یاد دلایا کہ روس اس سے قبل کیف میں سرکاری عمارتوں کو نشانہ بنا چکا ہے اور اب وہی طرزِ عمل دہرایا جا رہا ہے۔

ماہرین کی رائے

دفاعی ماہرین کے مطابق پیوٹن کی رہائش گاہ پر ڈرون حملہ “تکنیکی طور پر ممکن” ضرور ہو سکتا ہے، مگر “اسٹریٹجک طور پر بے معنی اور نقصان دہ” ہوگا۔


ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے کسی اقدام سے یوکرین کو کوئی عسکری فائدہ حاصل نہیں ہو سکتا بلکہ اس سے روس کو مزید سخت ردعمل کا موقع ملتا ہے۔

پیوٹن کی رہائش گاہ اور سیکیورٹی

پیوٹن کی رہائش گاہ، جسے “والدائی” یا “اُژین” کہا جاتا ہے، جھیل والدائی کے کنارے ایک محفوظ سرکاری ریزورٹ میں واقع ہے۔
یہ علاقہ تین اطراف سے پانی اور چوتھی جانب سخت حفاظتی باڑ سے گھرا ہوا ہے۔


بین الاقوامی ادارے “انسٹیٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف وار” کے مطابق مئی 2024 سے یہاں جدید فضائی دفاعی نظام، بشمول پینٹسر ایس ون، تعینات کیے گئے ہیں۔

امن مذاکرات کا تناظر

یہ الزامات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب امریکا اور یوکرین کے درمیان امن منصوبے پر بات چیت میں پیش رفت کی اطلاعات سامنے آ رہی تھیں۔
صدر زیلنسکی نے امریکی میڈیا کو بتایا کہ 2026 میں جنگ کے خاتمے کا امکان موجود ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ امریکا کی حمایت کے بغیر یوکرین جنگ نہیں جیت سکتا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق امریکا یوکرین کو 15 سالہ سیکیورٹی ضمانت دینے پر آمادہ ہے اور اس معاہدے کا بڑا حصہ طے پا چکا ہے۔ البتہ علاقائی تنازعات، خاص طور پر ڈونباس اور زاپوریزیا نیوکلیئر پلانٹ کا معاملہ، تاحال حل طلب ہیں۔

ٹرمپ اور پیوٹن کا رابطہ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ پیوٹن نے فون کال کے دوران ان سے مبینہ حملے کا ذکر کیا، جس پر وہ ناراض ہوئے۔
ٹرمپ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا:

“کسی کے گھر پر حملہ کرنا درست وقت پر درست عمل نہیں۔”

تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ امن معاہدہ اب بھی قریب ہو سکتا ہے۔

پاکستان کا ردعمل

وزیراعظم شہباز شریف نے پیوٹن کی رہائش گاہ کو نشانہ بنانے کی اطلاعات کی مذمت کرتے ہوئے اسے “گھناؤنا فعل” قرار دیا۔


انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات امن، سلامتی اور استحکام کے لیے شدید خطرہ ہیں، خصوصاً ایسے وقت میں جب جنگ کے خاتمے کی کوششیں جاری ہوں۔

آگے کیا ہوگا؟

روس نے عندیہ دیا ہے کہ وہ یوکرین کے خلاف سخت ردعمل پر غور کر رہا ہے، جبکہ یوکرین نے روسی دعوؤں کو مکمل طور پر من گھڑت قرار دیا ہے۔


ان بیانات کے بعد یوکرین جنگ کے مستقبل اور امن مذاکرات کی کامیابی پر سوالیہ نشان مزید گہرا ہو گیا ہے، اور عالمی برادری کی نظریں آئندہ سفارتی پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

دیکھیں: امریکی صدر ٹرمپ کی روسی صدر پیوٹن سے الاسکا میں تاریخی ملاقات

متعلقہ مضامین

فتنہ الخوارج کے سربراہ نور ولی محسود کی کرم میں موجودگی کا دعویٰ جعلی ثابت، ویڈیو کا مقصد ناکامیوں پر پردہ ڈالنا ہے۔

August 5, 2026

لکی مروت کے علاقے کٹا خیل میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن 11 گرج میں افغان شہری سمیت 3 خوارج ہلاک ہو گئے۔

August 5, 2026

وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کل سعودی عرب کا دو روزہ دورہ کریں گے، جہاں ولی عہد محمد بن سلمان سے اہم ملاقات متوقع ہے۔

August 5, 2026

امریکہ، ایران اور عمان 60 روز کے لیے آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری آمدورفت بحال کرنے کے عبوری معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔

August 5, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *