اترپردیش میں بھارتی تربیتی طیارے کے حادثے میں دونوں پائلٹ محفوظ رہے۔ پائلٹس نے تکنیکی خرابی کے باوجود تالاب میں کامیاب ہنگامی لینڈنگ کی

January 21, 2026

دفتر خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے دکھ درد کے خاتمے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا، اور ’’بورڈ آف پیس‘‘ کے پلیٹ فارم سے امن کے قیام کے لیے عملی پیش رفت کی امید ہے۔

January 21, 2026

اسی دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اپنی دوسری مدت کے پہلے سال کی تکمیل کے موقع پر عندیہ دیا ہے کہ “بورڈ آف پیس” مستقبل میں اقوامِ متحدہ کی جگہ بھی لے سکتا ہے۔ صحافیوں کے سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ اقوامِ متحدہ میں صلاحیت تو ہے مگر وہ “زیادہ مددگار ثابت نہیں ہوئی”، اور یہ کہ ان کا مجوزہ بورڈ “شاید” ایک دن اس کی جگہ لے سکے۔

January 21, 2026

ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقہ ڈومیل بیزن خیل میں عسکریت پسندوں اور مقامی امن کمیٹی کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں پولیس اہلکار صدام شہید ہو گئے

January 21, 2026

افغان طالبان حکومت نے بجٹ کا 88 فیصد حصہ غیر ترقیاتی کاموں پر خرچ کر دیا، جس میں فوجی، سکیورٹی اور انتظامی اخراجات شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کے مطابق ترقیاتی بجٹ گزشتہ برسوں کے مقابلے میں 82 فیصد کم ہو کر صرف 24 ارب افغانی رہ گیا

January 21, 2026

اسلام آباد میں منعقد ہونے والی اقتصادی تعاون تنظیم کے وزراء کی دسویں کانفرنس میں امارتِ اسلامیہ افغانستان نے عدمِ شرکت کا فیصلہ کیا، حالانکہ انہیں باقاعدہ دعوت دی گئی تھی

January 21, 2026

امریکی صدر ٹرمپ کی روسی صدر پیوٹن سے الاسکا میں تاریخی ملاقات

بات چیت میں یوکرین جنگ بندی پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ صدر ٹرمپ نے جنگ بندی کے لیے اپنی خواہش کا اظہار کیا اور ایک دوسری ملاقات کی ضرورت پر زور دیا۔
ٹرمپ پیوٹن ملاقات

ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔

August 16, 2025

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے درمیان الاسکا کے فوجی ایئربیس جوائنٹ بیس ایلمینڈورف-رچرڈسن میں ہونے والی اہم ملاقات تقریباً چار گھنٹے تک جاری رہی، تاہم یوکرین جنگ بندی کے حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آسکا۔

دونوں رہنماؤں نے بات چیت کو ’’انتہائی تعمیری‘‘ قرار دیا۔ ملاقات سے قبل صدر ٹرمپ نے ائیر فورس ون سے اتر کر سُرخ قالین پر صدر پیوٹن کا پرتپاک استقبال کیا اور انہیں اپنی لیموزین میں ساتھ لے کر ملاقات کی جگہ پہنچے۔ اس دوران مترجم موجود نہ تھا، تاہم صدر پیوٹن اچھی انگلش بول لیتے ہیں اس لیے دونوں رہنماؤں میں کسی حد تک ون آن ون ملاقات بھی ہوئی۔

باضابطہ مذاکرات میں دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ سمیت دو، دو اعلیٰ حکام شریک ہوئے۔ ملاقات کے آغاز میں رہنماؤں نے صحافیوں کے سوالات کے جواب دینے کے بجائے صرف فوٹو اور ویڈیو سیشن کرایا۔

بات چیت میں یوکرین جنگ بندی پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ صدر ٹرمپ نے جنگ بندی کے لیے اپنی خواہش کا اظہار کیا اور ایک دوسری ملاقات کی ضرورت پر زور دیا۔

مشترکہ پریس کانفرنس

ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ روسی صدر پیوٹن نے مذاکرات کو ’’تعمیری اور باہمی احترام پر مبنی‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یوکرین کی صورتحال ایک ’’سانحہ‘‘ ہے اور روس یوکرینی عوام کو بھائیوں کی طرح سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دیرپا امن کے لیے تنازعہ کی بنیادی وجوہات کا خاتمہ ناگزیر ہے اور روس اس مقصد کے لیے کام کرنے پر تیار ہے۔

پیوٹن کا کہنا تھا کہ اگر 2022 میں ٹرمپ صدر ہوتے تو یوکرین میں جنگ شروع نہ ہوتی، تاہم انہیں امید ہے کہ ٹرمپ کے ساتھ اتفاق رائے سے امن کی راہ ہموار ہوسکے گی۔ ساتھ ہی انہوں نے یورپی ممالک کو تنبیہ کی کہ وہ کسی پیش رفت میں رکاوٹ نہ ڈالیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ملاقات ’’انتہائی تعمیری‘‘ رہی اور کئی نکات پر اتفاق رائے بھی ہوگیا ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ جنگ بندی پر فوری اتفاق نہیں ہوسکا لیکن اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ مستقبل میں روس سے سمجھوتہ ہو جائے۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ وہ جلد یوکرینی صدر زیلنسکی اور نیٹو رہنماؤں سے بات کریں گے۔

ماسکو میں اگلی ملاقات کی دعوت

پریس کانفرنس کے دوران صدر پیوٹن نے صدر ٹرمپ کو ماسکو میں اگلی ملاقات کی دعوت دی جسے ٹرمپ نے قبول کرتے ہوئے کہا کہ یہ تجویز ’’دلچسپ‘‘ ہے اور اس پر غور کیا جائے گا۔

یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی جب یوکرین کے صدر ولودومیر زیلنسکی نے ردعمل میں کہا تھا کہ ٹرمپ-پیوٹن ملاقات سے قبل بھی روسی حملے جاری تھے اور موثر حل کے لیے سہ فریقی ملاقات ضروری ہے۔

واضح رہے کہ ملاقات کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے میڈیا کو بیان تو دیے لیکن کسی سوال کا جواب نہیں دیا۔

ملاقات میں یوکرین میں جاری جنگ اور ممکنہ جنگ بندی پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ صدر ٹرمپ نے واضح کیا کہ وہ جنگ بندی کے خواہاں ہیں، تاہم اس حوالے سے مزید پیش رفت کے لیے ایک اور ملاقات کی ضرورت ہے۔

دونوں رہنماؤں نے پریس کانفرنس کے دوران اس بات پر زور دیا کہ بات چیت کے تسلسل سے خطے میں امن قائم کرنے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

صدر پیوٹن نے مذاکرات کے لیے الاسکا دعوت دینے پر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ روس اور امریکا کی مشترکہ تاریخ کا اہم حصہ الاسکا سے جڑا ہے۔

امریکی صدر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے یوکرینی صدر زیلنسکی کو ٹیلی فون کروں گا، بہت سے معاملات پر پیشرفت کی ہے۔ٹرمپ نے کہا کہ آپ سے جلد بات کروں گا اور ملاقات ہوگی۔

میلانیا ٹرمپ کا روسی صدر کو خط

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ نے روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کو یوکرین اور روس میں بچوں کی حالتِ زار سے متعلق خط بھی لکھ دیا۔

میلانیا ٹرمپ نے یہ خط ذاتی حیثیت میں  روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کو لکھا ہے۔ مریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے الاسکا میں روسی صدر پیوٹن سے ملاقات کے دوران اپنی اہلکیہ کی جانب سے لکھا گیا خط روسی صدر کو دیا۔

دیکھیں: پاک بھارت تنازعے میں ٹرمپ کا کردار؛ امریکی وزارتِ خارجہ کی تصدیق

متعلقہ مضامین

اترپردیش میں بھارتی تربیتی طیارے کے حادثے میں دونوں پائلٹ محفوظ رہے۔ پائلٹس نے تکنیکی خرابی کے باوجود تالاب میں کامیاب ہنگامی لینڈنگ کی

January 21, 2026

دفتر خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے دکھ درد کے خاتمے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا، اور ’’بورڈ آف پیس‘‘ کے پلیٹ فارم سے امن کے قیام کے لیے عملی پیش رفت کی امید ہے۔

January 21, 2026

اسی دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اپنی دوسری مدت کے پہلے سال کی تکمیل کے موقع پر عندیہ دیا ہے کہ “بورڈ آف پیس” مستقبل میں اقوامِ متحدہ کی جگہ بھی لے سکتا ہے۔ صحافیوں کے سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ اقوامِ متحدہ میں صلاحیت تو ہے مگر وہ “زیادہ مددگار ثابت نہیں ہوئی”، اور یہ کہ ان کا مجوزہ بورڈ “شاید” ایک دن اس کی جگہ لے سکے۔

January 21, 2026

ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقہ ڈومیل بیزن خیل میں عسکریت پسندوں اور مقامی امن کمیٹی کے درمیان فائرنگ کے تبادلے میں پولیس اہلکار صدام شہید ہو گئے

January 21, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *