نئی دہلی میں پیپر لیک تنازع ایک بار پھر شدت اختیار کرنے لگا۔ کاکروچ پارٹی نے 5 ستمبر کو انڈیا گیٹ سے دہلی پولیس ہیڈکوارٹر تک پرامن مارچ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ تنظیم کے مطابق جنتر منتر پر احتجاج ختم ہوئے ابھی چار ہفتے ہی گزرے ہیں لیکن 25 جولائی کو حکومت کی جانب سے دی گئی یقین دہانیوں پر عمل نہ ہونے کے باعث دوبارہ سڑکوں پر آنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
حکومت پر وعدہ خلافی کا الزام
کاکروچ جنتا پارٹی کا مؤقف ہے کہ حکومت نے پیپر لیک تنازع کے بعد خودکشی کرنے والے امیدواروں کے اہل خانہ کو معاوضہ دینے اور احتجاج کرنے والے نوجوانوں کے خلاف درج ایف آئی آر ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا، تاہم یہ مطالبات تاحال پورے نہیں ہوئے۔ تنظیم کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ سپریم کورٹ نے مظاہرین کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات طلب کی تھیں تاکہ ان پر کارروائی کی جاسکے، لیکن حکومتی سطح پر معاملہ تاخیر کا شکار ہے۔
پانچ ستمبر کو ہونے والے مارچ کی قیادت مبینہ طور پر ان طلبہ کے اہل خانہ کریں گے جنہوں نے تنازع کے دوران اپنی جانیں گنوائیں، جبکہ پولیس لاٹھی چارج کا سامنا کرنے والے طلبہ بھی مارچ میں شریک ہوں گے۔
کاکروچ جنتا پارٹی کا کہنا ہے کہ احتجاج پرامن ہوگا تاہم حکومت کی جانب سے وعدے پورے نہ کیے گئے تو پیپر لیک کے معاملے پر احتجاجی تحریک دوبارہ شدت اختیار کرسکتی ہے۔
دیکھیے: بنوں میں دہشت گردی کا منصوبہ ناکام، موٹر سائیکل سے بارودی مواد برآمد