"> بنوں انسداد دہشت گردی آپریشن
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

بنوں میں انسداد دہشت گردی آپریشن: فورسز کی جانب سے شہریوں کے تحفظ کے جامع اقدامات

سکیورٹی فورسز نے جانی خیل اور نصری خیل میں دہشت گردوں کی تنصیبات تباہ کر دیں، جبکہ کالعدم ٹی ٹی پی کی جانب سے دیہاتیوں کو زبردستی بے دخل کرنے اور ہراساں کرنے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔
بنوں انسداد دہشت گردی آپریشن: فورسز کی جانب سے شہریوں کے تحفظ کے جامع اقدامات

جانی خیل اور نصری خیل میں فورسز کا ٹارگٹڈ آپریشن، ٹی ٹی پی اور پی ٹی ایم کا بیانیہ مسترد۔ ریاست کی جانب سے ضم شدہ اضلاع میں ترقی اور پائیدار امن کے اقدامات تیز۔

August 19, 2026

سکیورٹی فورسز نے جانی خیل اور نصری خیل کے علاقوں میں دہشت گرد عناصر کے خلاف حتمی اور ہدفی کارروائیاں کرتے ہوئے ان کے مضبوط ٹھکانوں اور آئی ای ڈی تیار کرنے والی تنصیبات کو تباہ کر دیا ہے۔ یہ قدم ان کالعدم تنظیموں کے خلاف اٹھایا گیا ہے جو مقامی آبادی کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی تھیں۔

انٹیلی جنس معلومات پر مبنی ان آپریشنز کے دوران فورسز نے بھاری خطرات کا سامنا کرتے ہوئے غیر قانونی بھتہ خوری کے نیٹ ورکس اور غیر ملکی سرپرستی میں چلنے والے اڈے ختم کر دیے ہیں۔ کارروائی کا بنیادی مقصد معصوم شہریوں کو محفوظ رکھنا اور علاقے میں امن و امان کی مکمل بحالی کو یقینی بنانا ہے۔

دہشت گردوں کی جانب سے دیہاتیوں کی املاک پر زبردستی قبضے اور ان کی بے دخلی جیسے اقدامات کو روکنے کے لیے معمول کے سکیورٹی تدابیر نافذ کی گئی ہیں۔ ریموٹ کنٹرول دھماکوں کے خدشات کے پیش نظر موبائل سگنلز کی عارضی بندش اور آمد و رفت کی نگرانی جیسے حفاظتی اقدامات شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے ہیں۔

آپریشن کے بعد ریاست کی جانب سے متاثرہ خاندانوں کی معاوضوں کی فراہمی، بارودی سرنگوں کی صفائی اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیرِ نو کا کام بلا تاخیر شروع کر دیا گیا ہے۔ قبائلی اضلاع کے لیے اربوں روپے کے فنڈز مختص کیے گئے ہیں تاکہ جدید تعلیمی اداروں، صحت کی سہولیات اور سڑکوں کی تعمیر کے ذریعے ماضی کی محرومیوں کا ازالہ کیا جا سکے۔

مخالف انٹیلی جنس ایجنسیوں اور داخلی تخریبی عناصر کی جانب سے عوام اور اداروں کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی کوششیں ناکام بنا دی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق خیبر پختونخوا کے عوام کی قربانیاں اور ریاستی عزم خطے میں پائیدار امن اور آئینی حقوق کی فراہمی کا ضامن ہے۔

دیکھیے: دہشت گردی پر خاموشی، ریاست پر الزام تراشی: پی ٹی ایم کا دوہرا معیار بے نقاب

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *