سکیورٹی فورسز نے جانی خیل اور نصری خیل کے علاقوں میں دہشت گرد عناصر کے خلاف حتمی اور ہدفی کارروائیاں کرتے ہوئے ان کے مضبوط ٹھکانوں اور آئی ای ڈی تیار کرنے والی تنصیبات کو تباہ کر دیا ہے۔ یہ قدم ان کالعدم تنظیموں کے خلاف اٹھایا گیا ہے جو مقامی آبادی کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی تھیں۔
انٹیلی جنس معلومات پر مبنی ان آپریشنز کے دوران فورسز نے بھاری خطرات کا سامنا کرتے ہوئے غیر قانونی بھتہ خوری کے نیٹ ورکس اور غیر ملکی سرپرستی میں چلنے والے اڈے ختم کر دیے ہیں۔ کارروائی کا بنیادی مقصد معصوم شہریوں کو محفوظ رکھنا اور علاقے میں امن و امان کی مکمل بحالی کو یقینی بنانا ہے۔
دہشت گردوں کی جانب سے دیہاتیوں کی املاک پر زبردستی قبضے اور ان کی بے دخلی جیسے اقدامات کو روکنے کے لیے معمول کے سکیورٹی تدابیر نافذ کی گئی ہیں۔ ریموٹ کنٹرول دھماکوں کے خدشات کے پیش نظر موبائل سگنلز کی عارضی بندش اور آمد و رفت کی نگرانی جیسے حفاظتی اقدامات شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے ہیں۔
آپریشن کے بعد ریاست کی جانب سے متاثرہ خاندانوں کی معاوضوں کی فراہمی، بارودی سرنگوں کی صفائی اور بنیادی ڈھانچے کی تعمیرِ نو کا کام بلا تاخیر شروع کر دیا گیا ہے۔ قبائلی اضلاع کے لیے اربوں روپے کے فنڈز مختص کیے گئے ہیں تاکہ جدید تعلیمی اداروں، صحت کی سہولیات اور سڑکوں کی تعمیر کے ذریعے ماضی کی محرومیوں کا ازالہ کیا جا سکے۔
مخالف انٹیلی جنس ایجنسیوں اور داخلی تخریبی عناصر کی جانب سے عوام اور اداروں کے درمیان خلیج پیدا کرنے کی کوششیں ناکام بنا دی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق خیبر پختونخوا کے عوام کی قربانیاں اور ریاستی عزم خطے میں پائیدار امن اور آئینی حقوق کی فراہمی کا ضامن ہے۔
دیکھیے: دہشت گردی پر خاموشی، ریاست پر الزام تراشی: پی ٹی ایم کا دوہرا معیار بے نقاب