وزیراعظم شہباز شریف نے جدہ میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے اہم ملاقات کی، جس میں علاقائی سلامتی، امریکہ ایران سیز فائر اور دوطرفہ اقتصادی و دفاعی تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

April 16, 2026

اسلام آباد میں جاری بین الاقوامی امن مذاکرات کے خلاف مخصوص حلقوں کے منفی پراپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے مبصرین نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کا کردار کسی فریق کا چناؤ نہیں بلکہ خطے میں استحکام کے لیے اسٹریٹجک خودمختاری کا اظہار ہے۔

April 16, 2026

پریس بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے کہا کہ “پاکستانیوں نے اس پورے عمل میں شاندار ثالثی کا کردار ادا کیا ہے اور ہم ان کی دوستی اور اس معاہدے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی کوششوں کو سراہتے ہیں”۔

April 15, 2026

افغان طالبان سرحد پار سے شدت پسندوں کو پاکستان میں داخل کرنے کی کوشش کر رہے تھے تاہم پاک فوج کی بروقت کارروائی کے باعث یہ کوشش ناکام بنا دی گئی۔ سکیورٹی حکام کے مطابق ناکامی کے بعد طالبان نے ردعمل میں شہری علاقوں کو نشانہ بنایا۔

April 15, 2026

گورو آریا نے اپنے بیان میں کہا کہ: “ہم اسرائیل کے حقیقی بھائی ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ اسرائیل لبنان پر 100 اور غزہ پر 50 بم گرائے”، جسے مبصرین نے کھلی جارحیت اور تشدد کی حمایت قرار دیا ہے۔

April 15, 2026

وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی مشترکہ سفارتی کوششوں کے باعث 11 اپریل کو اسلام آباد میں امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست مذاکرات ممکن ہو سکے

April 15, 2026

وزیراعظم شہباز شریف کی عالمی رہنماؤں سے چین میں ملاقاتیں، پاکستان کے سفارتی تعلقات میں نئی پیش رفت

چائنہ میں اجلاس میں شرکت اور پاکستانی طلبا و کمیونٹی نمائندگان سے ملاقات کے علاوہ شہباز نے عالمی رہنماؤں سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کیں اور دو طرفہ سفارتی تعلقات کی بہتری کی اہمیت پر زور دیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں، پاکستان کے سفارتی تعلقات میں نئی پیش رفت

وزیراعظم نے روس کے ساتھ تجارت، توانائی، دفاع، زراعت اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔ صدر پیوٹن نے وزیراعظم کو روس کے آئندہ ایس سی او اجلاس میں شرکت کی دعوت دی۔

September 3, 2025

پاکستان کے وزیراعظم میاں شہباز شریف اس وقت چائنہ کے 6 روزہ دورے پر موجود ہیں۔ وہ شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کیلئے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ہمراہ چائنہ پہنچے۔

چائنہ میں اجلاس میں شرکت اور پاکستانی طلبا و کمیونٹی نمائندگان سے ملاقات کے علاوہ شہباز نے عالمی رہنماؤں سے الگ الگ ملاقاتیں بھی کیں اور دو طرفہ سفارتی تعلقات کی بہتری کی اہمیت پر زور دیا۔

ایران کے صدر سے ملاقات

وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے ملاقات کی۔ یہ ملاقات شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہان مملکت کونسل اجلاس کے موقع پر ہوئی۔ نائب وزیراعظم سینیٹر اسحاق ڈار، فیلڈ مارشل عاصم منیر اور دیگر وزرا بھی شریک تھے۔


وزیراعظم نے ایران کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر زور دیا جبکہ ایرانی صدر نے پاکستان کی مستقل حمایت کو سراہا اور حالیہ سیلاب پر دکھ کا اظہار کیا۔

روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ملاقات

شہباز شریف نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے بھی ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں نے آستانہ میں ہونے والی گزشتہ ملاقات کا بھی ذکر کیا اور تعلقات کے مثبت تسلسل پر اطمینان ظاہر کیا۔


وزیراعظم نے روس کے ساتھ تجارت، توانائی، دفاع، زراعت اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور دیا۔ صدر پیوٹن نے وزیراعظم کو روس کے آئندہ ایس سی او اجلاس میں شرکت کی دعوت دی۔

ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات

وزیراعظم نے ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کے دوران فلسطین کے مسئلے پر یکجہتی کا اعادہ کیا۔

دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات میں بڑھتے ہوئے تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ اقدامات پر اتفاق کیا۔

چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات

وزیراعظم نے چین کے صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک نے سی پیک کے اگلے مرحلے پر اتفاق کیا۔ وزیراعظم نے چین کی ترقی کو سراہا اور پاکستان کے اس سفر میں شریک رہنے کے عزم کو دہرایا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے جنوبی ایشیا میں جامع مذاکرات کی نگرانی کیلئے چین کو دعوت دیتے ہوئے کہا کہ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں دہشتگردی میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے ، جس کا بیانیہ دنیا تسلیم نہیں کرتی، پاکستان کے عوام چین کے ساتھ دوستی کودل سے پسند کرتے ہیں جبکہ چین کے صدر شی جن پنگ نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں چین پاکستان کی حمایت کرتا ہے۔

آذربائیجان کے صدر الہام علییوف سے ملاقات

وزیراعظم پاکستان نے آذربائیجان کے صدر الہام علییوف سے بھی ملاقات کی۔ انہوں نے آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان تاریخی امن معاہدے پر صدر علییوف کو مبارکباد دی اور اسے دیرپا امن کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا۔


دونوں رہنماؤں نے تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، دفاع، تعلیم اور عوامی روابط کے شعبوں میں تعاون کا جائزہ لیا اور بڑھتے ہوئے تعلقات پر اطمینان ظاہر کیا۔ انہوں نے علاقائی روابط اور کثیر الجہتی فریم ورک کے تحت تعاون بڑھانے پر بھی زور دیا۔


صدر علییوف نے پاکستان میں حالیہ سیلاب کے باعث جانی و مالی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ آذربائیجان کی حکومت اور عوام مشکل کی اس گھڑی میں پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔

تاجکستان کے صدر امام علی رحمان سے ملاقات

شہباز شریف نے تاجک صدر امام علی رحمان سے ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کو مزید گہرا کرنے پر اتفاق کیا۔ ملاقات میں تجارت، سرمایہ کاری، توانائی اور ثقافتی تعاون کو بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی سے کوئی ملاقات نہ ہوئی

اہم بات یہ ہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کے دوران وزیراعظم شہباز شریف اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے درمیان کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ دونوں رہنما ایک ہی پلیٹ فارم پر موجود رہے، مگر باضابطہ گفتگو یا ملاقات نہیں ہو سکی۔

تاریخی 80ویں پریڈ میں شرکت

وزیراعظم شہباز شریف نے چین کی آزادی کی 80ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ تاریخی فوجی پریڈ میں بھی شرکت کی۔ اس موقع پر عالمی رہنماؤں کے ہمراہ وزیراعظم پاکستان کی موجودگی کو خصوصی اہمیت دی گئی اور چینی قیادت نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔

اس دورے اور ملاقاتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نہ صرف خطے میں پاکستان کے سفارتی اثر و رسوخ کو بڑھا رہے ہیں بلکہ عالمی قیادت کے ساتھ تعلقات کو بھی مستحکم کر رہے ہیں۔ مختلف ممالک کے رہنماؤں سے ملاقاتیں، تاریخی فوجی پریڈ میں شرکت اور خطے میں امن و استحکام کے لیے اقدامات نے پاکستان کی عالمی ساکھ میں اضافہ کیا ہے۔

یہ ملاقاتیں اور دورہ خطے میں پاکستان کے مثبت کردار کو اجاگر کرتے ہیں اور مستقبل میں علاقائی تعاون اور ترقی کے نئے مواقع پیدا کرنے کی راہ ہموار کر سکتے ہیں۔

دیکھیں: شہباز شریف کی فیلڈ مارشل اور وزیر خارجہ کے ہمراہ چینی صدر سے ملاقات

متعلقہ مضامین

وزیراعظم شہباز شریف نے جدہ میں سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے اہم ملاقات کی، جس میں علاقائی سلامتی، امریکہ ایران سیز فائر اور دوطرفہ اقتصادی و دفاعی تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

April 16, 2026

اسلام آباد میں جاری بین الاقوامی امن مذاکرات کے خلاف مخصوص حلقوں کے منفی پراپیگنڈے کو مسترد کرتے ہوئے مبصرین نے واضح کیا ہے کہ پاکستان کا کردار کسی فریق کا چناؤ نہیں بلکہ خطے میں استحکام کے لیے اسٹریٹجک خودمختاری کا اظہار ہے۔

April 16, 2026

پریس بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے کہا کہ “پاکستانیوں نے اس پورے عمل میں شاندار ثالثی کا کردار ادا کیا ہے اور ہم ان کی دوستی اور اس معاہدے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کی کوششوں کو سراہتے ہیں”۔

April 15, 2026

افغان طالبان سرحد پار سے شدت پسندوں کو پاکستان میں داخل کرنے کی کوشش کر رہے تھے تاہم پاک فوج کی بروقت کارروائی کے باعث یہ کوشش ناکام بنا دی گئی۔ سکیورٹی حکام کے مطابق ناکامی کے بعد طالبان نے ردعمل میں شہری علاقوں کو نشانہ بنایا۔

April 15, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *